خلیجی تیل کی برآمدات میں بڑا اضافہ، جون میں ریکارڈ یو اے ای سپلائی نے نئی تاریخ رقم کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )خلیجی ممالک کی خام تیل کی برآمدات میں جون کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ریکارڈ سطح پر برآمدات میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور ایران سے مجموعی خام تیل اور کنڈینسیٹ برآمدات مئی کے مقابلے میں 3.5 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ بڑھ کر 10.07 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جون میں صرف متحدہ عرب امارات کی خام تیل برآمدات 3.7 سے 3.8 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں، جو مئی کے مقابلے میں 1 ملین بیرل یومیہ سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج کے کردار اور خطے میں کشیدگی میں کمی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہوئی، جس سے بندرگاہوں میں پھنسے ہوئے لاکھوں بیرل خام تیل کو عالمی منڈی تک پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بڑی پیش رفت! کیاجاپان دوبارہ ایرانی خام تیل خریدنے جا رہا ہے؟
ماہرین کے مطابق جون کے دوران بحری ٹریفک میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ درجنوں ٹینکرز دوبارہ خلیجی پانیوں میں داخل ہوئے، جو خطے میں اعتماد کی بحالی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ برآمدات اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً 40 فیصد کم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکمل بحالی کا عمل ابھی جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو عالمی تیل مارکیٹ میں سپلائی مزید بہتر ہو سکتی ہے اور قیمتوں پر بھی دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم صورتحال اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔