برسوں بعد دوبارہ خام تیل کی فروخت،ایران اور جاپان کے ابتدائی مذاکرات شروع
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )ایران نے برسوں بعد جاپان کو دوبارہ خام تیل فروخت کرنے کے لیے ابتدائی مذاکرات شروع کر دیئے ۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی اور مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ جاپان کی تین کمپنیاں ایرانی تیل خریدنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہیں، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران اور واشنگٹن کے درمیان جاری 60 روزہ امن مذاکرات کے دوران عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی کی ہے، جس کے تحت ایران کو محدود مدت کے لیے تیل فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ رعایت 21 اگست تک مؤثر ہے، جبکہ جاپانی خریدار طویل مدت کی رعایت چاہتے ہیں تاکہ خریداری اور شپنگ کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ایران کی قومی آئل کمپنی نے اپنے روایتی خریداروں، جن میں جاپان بھی شامل ہے، سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر مستقل امن معاہدہ طے پا گیا اور پابندیاں ختم ہوئیں تو وہ دوبارہ ایرانی تیل خریدنا شروع کریں۔
یہ بھی پڑھیں:’’ ایرانی قوم فاتح بن کر ابھرے گی‘‘روس سے بڑا دعویٰ سامنے آگیا
دوسری جانب جاپانی حکام نے ان مذاکرات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی خدشات، جہاز رانی کے خطرات اور انشورنس کے مسائل اب بھی بڑی رکاوٹ ہیں، جس کے باعث جاپانی کمپنیاں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پابندیوں میں مزید نرمی ہوئی اور سکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی تو ایران کئی سال بعد دوبارہ جاپان سمیت دیگر ایشیائی ممالک کو تیل برآمد کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے، جس کے عالمی توانائی کی منڈی پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔