عظمی خان کی ملاقات بھی بند،جیل کے باہرنقص امن کی صورتحال ہوئی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے؛عطا تارڑ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہر روز نقص امن پید ا کرنے کی کوشش کرتی ہیں جس جس نے قانون کی خلاف ورزی کی ان کی ملاقاتیں بند ہوئیں،عظمی خان کی بھی اب ملاقات نہیں ہو گی،اب جیل کے بعد نقص امن کی صورتحال ہوئی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اوروفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہ بانی پی ٹی آئی کرپشن کیس میں سزا یافتہ قیدی ہیں،ملاقات کے بعد باہر آکر بار بار قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے،پی ٹی آئی کے رہنما بھارت کے میڈیا کو انٹرویوز دے رہے ہیں،بانی پی ٹی آئی کا ناشتہ غریب آدمی کے ایک ہفتے کی خوراک کے برابر ہے، یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ سہولتیں لینے والا قیدی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ملاقات کے لیے جاتے تھے، آج تک کوئی سڑک بلاک نہیں کی، نواز شریف بیمار تھے جبکہ بانی پی ٹی آئی ہشاش بشاش ہیں۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہدایات دی جاچکی ہیں کہ روز روز اڈیالہ جیل کے باہر تماشا برداشت نہیں کیا جائے گا،یہ لوگ اس ریاست کے خلاف بول رہے ہیں جس نے بھارت کو دھول چٹائی،ملک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے،یہ لوگ صرف انا کے غلام بن چکے ہیں ،یہ چاہتے ہیں ذاتی انا کے سامنے ملکی مفاد سرینڈر کردیں۔
عطا تارڑکا کہنا تھا کہ سڑک سے اٹھ کر کمرے میں بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی این ایف سی اجلاس میں شرکت احسن اقدام ہے ،یہ ان کا آئینی حق ہے، یہی ان کا اصل کام ہے ،انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے بہت اچھا کام کیا کہ وہ سڑک سے اٹھ کر کمروں میں آ کر میٹنگز کر رہے ہیں،ایپکس کمیٹی کی میٹنگ جب بلائی جاتی ہے تو وہ اس میں شرکت کر کے اپنا کردار ادا کریں۔
وزیراطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کئی مرتبہ اس آفر کو دوہرایا ہے کہ ہم صوبے اور صوبے کے عوام کی بہتری کے لئے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا آج آئے ہیں، ہم انہیں ویلکم کرتے ہیں۔
اس دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نوٹیفکیشن آ جائے گا بلکل پریشان نہیں ہونا جس چینل نے چلایا یے اسے ہی بے چینی کہتے ہیں جلد اصلی نوٹیفکیشن بھی آ جائے گا،کسی بھی لمحے نوٹیفکیشن کی خبر آجائے گی،چائے کی پیالی میں طوفان تھم جائیگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا معاملہ بہت اٹھایا جارہا ہے،ملکی نظام کیلئے آئین اور آئین کے مطابق قانون سازی کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت کا اختیار پنجاب حکومت کے پاس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپیریئر پریزنز ہفتے میں ایک بار ملاقات کر سکتے ہیں، جس میں 6 سے زیادہ افراد شامل نہیں ہو سکتے،سپرنٹنڈنٹ جیل کو مکمل اختیار ہے کہ قواعد کے خلاف ملاقات کو روک دے ،رول 265 کے مطابق قیدی ہفتے میں ایک چٹھی یا ایک ملاقات کر سکتا ہے،ملاقات میں نہ سیاسی گفتگو کی اجازت ہے اور نہ ہی بات کو پبلک کیا جا سکتا ہے،قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی ہفتے میں ایک خط اور ایک ملاقات کرسکتے ہیں۔
رول 557 کے تحت اگر قواعد کی خلاف ورزی ہو تو سپرنٹنڈنٹ ملاقاتیں بند کر سکتا ہے،قیدی بغیر نگرانی ملاقات نہیں کر سکتا،اگر انتشار،نقص امن یا خطرہ محسوس ہو تو ملاقات فوری معطل کی جا سکتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی والےرول آف لا کی بات کرتے ہیں اور قانون پر ہی عمل نہیں کرتے،جہاں قانون پر عمل نہ ہو وہ ریاستیں نہیں چل سکتیں،سہیل آفریدی مجرم سے مشورہ کرکے کابینہ بنانے کی بات کرتے ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ مجرم ہیں،اسی قانون پر عمل ہورہا ہے جو دہائیوں سے لاگو ہے، انہوں نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف پر بھی یہی قوانین لاگو تھے،اس وقت کی صوبائی حکومت نے ملاقاتیں نہ کرانے کا فیصلہ کیا تھا،اس دور میں قیدیوں کو جیل میں بھی الگ الگ رکھا گیا،ہم ملنے جاتے تھے تو ہمیں بہت سی پابندیوں پر عمل کرنا پڑتا تھا،ملاقات کے بعد باہر آکر سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں تھی،اہم قیدی ہفتے میں ایک بار ملاقات کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جعلی ہے، حکومت