موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کیخلاف درخواست مسترد
آپ قانون پر عملدرآمد کی بجائے قانون ختم کرانے آگئے ہیں ،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کادرخواست گزار سے مکالمہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف )لاہور ہائیکورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کیخلاف درخواست مستردکردی۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی اورکہاکہ حکومت نے قانون بنا دیا اس پر عمل کریں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہاکہ عرب ملک میں گاڑی کے ہٹ کرنے پر ایک لاکھ درہم تک جرمانہ کیا جاتا ہے ۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہاکہ یہاں پر آپ قانون پر عملدرآمد کی بجائے قانون ختم کرانے آگئے ہیں ،پولیس کے مطابق پانچ ہزار افرادبچوں کے ون وے خلاف ورزی سے حادثات میں زخمی اور فوت ہوئے، جرمانہ زیادہ اس لئے رکھا گیا کہ لوگ خلاف ورزی نہ کریں ۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے مزیدکہاکہ قانون سوسائٹی کو بہتر کرنے کیلئے بنتے ہیں ،شہریوں کو ذمہ دار بنانے کیلئے قانون سازی ضروری ہے،کم عمر بچے موٹر سائیکل تیز رفتاری سے چلاتے ہیں،والدین بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ،آپ نے دیکھا راولپنڈی میں کیا ہوا حادثہ میں دو خواتین جان سے گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:کہیں بارش توکہیں برف باری؛بڑی پیش گوئی سامنے آ گئی
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آصف شاکر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی،وکیل درخواست گزارنے کہاکہ پولیس کم عمر بچوں پر ایف آئی آرز درج کررہی ہے،اس پرچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہاکہ پولیس اب بچوں کی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر انہیں آگاہی اور وارننگ دی رہی ہے۔
وکیل درخواست گزارنے کہاکہ وی آئی پی پروٹوکول کی وجہ سے سڑکیں بند ہونے سے ٹریفک بلاک ہوتی ہے ،قانون سازی کرکے بھاری جرمانہ عائد کئے جا رہے ہیں،شہریوں کو پہلے ہی مالی مشکلات کا سامناہے ،شہریوں کو ٹریفک قوانین بارے آگاہی دینے کی بجائے جرمانہ اور ایف آئی آر کرنا درست نہیں ،عدالت بھاری جرمانوں کیلئے کی گئی ترامیم کالعدم قرار دے۔