فیفا ورلڈ کپ کون کون سے میچوں میں گرمی زیادہ پڑے گی؟ ہوشربا تفصیلات سامنے آ گئیں 

Jun 03, 2026 | 23:51:PM
 فیفا ورلڈ کپ کون کون سے میچوں میں گرمی زیادہ پڑے گی؟ ہوشربا تفصیلات سامنے آ گئیں 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  فیفا ورلڈ کپ کے میچوں کے دوران غیر معمولی گرمی پڑے گی، کون کون سے میچ گرمی سے بری طرح متاثر ہوں گے، ہوشربا تفصیلات سامنے آ گئیں۔

  کلائمیٹ چینج کے  سبب امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مین ہونے جا رہے فٹ بال کے میگا ایونٹ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے اکثر میچز متاثر ہونے کا خدشہ سامنے آ رہا ہے۔ 
 فیفا ورلڈ کپ کے  میچوں کے دوران غیر معمولی گرمی سے  کھلاڑیوں کی کارکردگی اور میچوں کا معیار تو متاثر ہو گا ہی، یہ میچ دیکھنے کے لئے سٹیڈیم جانے والے فینز کو بھی اپنا خاص خیال رکھنا پرے گا۔ 

ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہےکہ فیفا ورلڈ کپ  کے 104 میں سے97 میچوں کے دوران ایسی گرمی پڑنےکے امکانات بڑھ چکے ہیں جو کھلاڑیوں کی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے۔

موسمیاتی تحقیقاتی ادارے کلائمیٹ سینٹرل کی  رپورٹ کے مطابق 28 ڈگری سیلسئیس یا اس سے زیادہ  ٹمپریچر فٹبالرز کی رفتار، سپرنٹس کی تعداد، طے کیے  جانے والے فاصلے اور ریکوری کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ 28 ڈگری سیلسئیس یا اس سے زیادہ گرمی ہو تو  میچ کی رفتار، حکمت عملی اور مجموعی معیار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  صدر ٹرمپ  نے دس فیصد گلوبل ٹیرف لگا دیا،  نئی ٹیرف وار چھڑنےکاخطرہ 

رپورٹ کے مطابق 2026 ورلڈ کپ کے تقریباً نصف میچوں میں ایسی گرمی پڑنے کے امکانات 50 فیصد یا اس سے زیادہ ہیں جبکہ 26 میچ ایسے ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی نے اس خطرے میں کم از کم 10 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔اوسطاً تمام میچز میں کارکردگی متاثر کرنے والی گرمی کے امکانات میں تقریباً 8 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 فیفا ورلڈکپ 2026 میں1248 کھلاڑیوں کی شمولیت متوقع ہے۔ ٹیموں کی تعداد کے اعتبار سے یہ والا ورلڈ کپ فٹ بال کی  تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ بن گیا  ہےْ 
 تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا میچ میکسیکو کے شہر گواڈالاخارا میں سپین اور  یوراگوئےکے درمیان ہونے والا گروپ میچ ہوگا، اس مقابلےکے دوران درجہ حرارت کے 28 ڈگری سینٹی گریڈ سےزیادہ رہنے کے امکانات تقریباً 70 فیصد ہیں۔

 گواڈالاخارا اور  میامی سمیت کئی شہروں میں کھیلے جانے والے میچ  شدید گرمی کی زد میں آسکتے ہیں۔  19 جولائی کو نیو جرسی میں ورلڈ کپ فائنل کے دوران بھی ایسی گرمی پڑنے کے امکانات تقریباً  47 فیصد ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث نمایاں حد تک بڑھ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں آندھی اور بارش، بجلی کی ترسیل کا نام درہم برہم 

فٹ بال کے  ماہرین کا کہنا ہے کہ 28 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت میں فٹبال کا انداز  بدل جاتا ہے، کھلاڑی کم سپرنٹ کرتے ہیں، میچ کی شدت میں کمی آتی ہے اور گول کے مواقع بھی کم پیدا ہوتے ہیں،  شدید گرمی اور  نمی کھلاڑیوں میں ہیٹ ایکزاسشن اور  ہیٹ سٹروک جیسے طبی خطرات بھی بڑھا سکتی ہے۔

ناروے کے فٹبالر مورٹن تھورسبے  مانتے ہیں کہ بڑھتا ہوا  ٹمپریچرصرف کھلاڑیوں اور شائقین کی صحت کے لیے خطرہ نہیں بلکہ کھیل کے معیار کو بھی متاثر کررہا ہے۔  جب گرمی دوڑنے، بحالی اور مجموعی شدت پر اثر انداز ہوتی ہے تو فٹبال کا انداز ہی بدل جاتا ہے۔

کلائمیٹ سینٹرل کے مطابق ورلڈ کپ منتظمین نے گرمی کے خطرات کم کرنے کے لیے گرم شہروں میں زیادہ شام کے اوقات میں میچز رکھنے اور تمام 104 میچز میں واٹر بریکس لازمی قرار دینے جیسے اقدامات کیے ہیں تاہم بیشتر اسٹیڈیم اوپن ائیر ہیں جس کے باعث کھلاڑیوں اور تماشائیوں کو شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:   سابق کرکٹر کی اہلیہ کا شوہر کی سالگرہ پر دلچسپ  پیغام، وسیم اکرم کتنے برس کے ہوگئے؟