ٹک ٹاک کا مالک مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کا دوسرا امیر ترین فرد بن گیا

Jun 03, 2026 | 17:27:PM
ٹک ٹاک کا مالک مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کا دوسرا امیر ترین فرد بن گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)   ٹک ٹاک کی  مدر کمپنی بائیٹ ڈانس کا بانی  زینگ یامنگ بھارت کے جدی پشتی صنعتکار مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن  گیا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس کے حصص کی قیمت میں اضافے اور کمپنی کی جانب سے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی میں پیشرفت کے باعث زینگ یامنگ کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

  زینگ یامنگ کی دولت میں شئیرز کی قیمت بڑھنے سے صرف ایک دن میں 24.1 ارب ڈالر کا بڑا اضافہ ہوا اور اب وہ 92.8 ارب ڈالر  مالیت کے اثاثوں کی ملکیت کے ساتھ ایشیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔

یہ سال ابتدا سے ہی زینگ یا منگ کے لئے مبارک ثابت ہو رہا ہے۔  زینگ یامنگ کی دولت میں اس سال کے دوران اب تک 27.7 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے اور وہ دنیا کے 21 ویں امیر ترین شخص بن گئے ہیں۔

بھارت کے صنعتکار  مکیش امبانی اس سال کے دوران 20.8 ارب ڈالرز سے محروم ہوچکے ہیں اور  ان کے اثاثوں کی مالیت گھٹ کر 86.9 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔

دولت کے انبار میں پونے اکیس ارب ڈالر  کمی کے باوجود امبانی اس وقت بھی ایشیا کے تیسرے  اور  کے 25 ویں امیر ترین شخص ہیں۔

 ایشیا میں سب سے امیر آدمی  گوتم اڈانی ہیں۔ ان کے اثاثوں کی اس وقت مالیت  117 ارب ڈالر ہے۔ وہ  دنیا کے 17 ویں امیر ترین شخص ہیں۔

اس دوران زینگ یامنگ کے ساتھ یہ اچھا ہوا ہے کہ ان کی کمپنی بائیٹ ڈانس کا بنایا ہوا  اے آئی اسسٹنٹ اور چیٹ بوٹ ڈوباؤ  Doubao بہت مقبول ہو رہا ہے اور اس آرٹیفیشل اسسٹنٹ کو استعمال کرنے والوں  کی تعداد 30 کروڑ سے بڑھ گئی ہے۔

ایشیا اور چین کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہونے کے باوجود زینگ یامنگ  خاموش زندگی گزارتے ہیں اور ان کی زندگی کے بارے میں بہت کم تفصیلات سامنے آتی ہیں۔

1983 میں چین کے صوبے فو جیانFujian میں پیدا ہونے والے زینگ یامنگ کے والد اور والدہ دونوں سرکاری ملازم تھے۔

زینگ یامنگ  نام دراصل ایک  چینی کہاوت  سے ماخوذ ہے ۔ اس کا معنی پہلی کوشش میں ہی حیران کر دینا ہے۔ زینگ یامنگ کی پرسنلیٹی کو جاننے والے یہی بتاتے ہیں کہ وہ بس حیران  ہی کر دینے والی ذہانت کے مالک ہیں۔ یامنگ نے 2005 میں Nanki یونیورسٹی سے سافٹ وئیر انجینئرنگ میں گریجویشن کی تھی۔  اسی یونیورسٹی میں ان کو  ایک ساتھی سٹوڈنٹ سے محبت ہوئی اور  دونوں نے جلد شادی کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں اس سال بارشیں کم ہونگی،محکمہ موسمیات نے خبردارکردیا 

یامنگ نے '2005 میں گریجویشن کرنے کے بعد ایک کمپنی Kuxun میں  جاب کی، یامنگ اس کمپنی کے اولین ملازمین سے ایک تھے اور آغاز میں ایک عام انجینئر تھے لیکن ملازمت کے دوسرے سال میں 40 سے 50 افراد کے انچارج تھے۔

یامنگ نے اس جاب کے متعلق خود بتایا  کہ 'اس وقت میں ٹیکنالوجی سائیڈ  کا ذمہ دار تھا مگر جب پراڈکٹ کو مسائل کا سامنا ہوا تو میں پراڈکٹ پلان میں متحرک طریقے سے شامل ہوگیا، بیشتر افراد کا کہنا تھا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے، مگر میرا جواب تھا آپ کا احساس ذمہ داری اور خواہشات آپ کو متعدد کام کرنے کا جذبے دیتے ہیں اور تجربہ بڑھتا ہے'۔

ٹیکنالوجی کے بیک اینڈ سے نکل کر کاروبار  کا تجربہ حاصل کرنے اور ان کا حصہ بننے سے زینگ یامنگ کو مستقبل میں اپنی کمپنی کھڑی کرنے اور اپنے آئیڈیاز پر مبنی  انیشئیٹیو   کو کامیاب بنانے میں مدد ملی۔

یامنگ نے مزید بتایا کہ 'مجھے 2007 کا اختتام یاد ہے، میں سیلز ڈائریکٹر کے ساتھ ایک  کلائنٹ سے ملاقات کے لیے گیا، اس تجربے سے مجھے یہ جاننے کا موقع ملا کہ کونسی سیلز اچھی سیلز ہوتی ہیں، جب میں نے اپنی کمپنی قائم کی اور عملے کو بھرتی کیا تو اس طرح کے تجربات سے مجھے بہت مدد ملی'۔

بائیٹ ڈانس کی بنیاد رکھنے سے قبل انہوں نے مائیکرو سافٹ میں بھی ملازمت کی مگر بعد میں اپنی کمپنی  بنانے کے لیے اسے چھوڑ دیا۔

2012 میں  زینگ یامنگ نے بائیٹ ڈانس کی بنیاد رکھی جو   اپنی ذیلی کمپنی ٹک ٹاک کے باعث اب دنیا کی صف اول کی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شروع میں  زینگ یامنگ خود  ٹک ٹاک کو استعمال نہیں کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہواوے نے نئی نووا 16 سیریز متعارف کرا دی، قیمت اور فیچرز جانیے 

یامنگ نے بتایا کہ  'طویل عرصے تک میں ٹک ٹاک ویڈیوز کبھی کبھار ہی دیکھتا تھا جبکہ کبھی ویڈیو پوسٹ بھی نہیں کرتا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ یہ ایپ تو  نوجوانوں کے لیے ہے'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 'مگر بعد میں ہم نے کمپنی کے تمام افراد کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا اور لائیکس کی مخصوص تعداد حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا، یہ میرے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہوا'۔