ملک میں دو سال سے سب موجود ہے لیکن انصاف نہیں، تحریک انصاف
تحریک انصاف کے رہنمائوں شبلی فراز، عمر ایوب اور شیخ وقاص اکرم کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(طیب سیف) پاکستان تحریک انصاف کے سینٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز کا کہنا ہے کہ پی ٹی ائی کے بانی چیئرمین کو دو سال سے نا حق قید میں رکھا گیا ہے،دو سال سے سب موجود ہے ملک میں لیکن انصاف نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی جنگ میں ہمارے تین ایز کی وجہ سے کامیابی ہوئی،پہلے اللہ پھر ائیر فورس اور اٹرلی فورس ۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ پر ظلم کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے سینٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز کا کہنا تھا کہ جیل میں عام سے عام قیدی کو بھی جو چیزیں ملنی ہوتی ہے وہ بھی بانی چیئرمین کو نہیں دیا جا رہا ۔ان کو ان کی فیملی بچوں سے ملنے تک کی اجازت نہیں دی جاتی۔آپ اپنے ملک کے جمہوری اداروں پر حملہ آور نہیں ہو سکتے ہیں۔فئیر مقابلہ ہونا چائیے۔ پی پی پی جو حکومت کا اتحادی جماعت ہے وہ خود کہہ رہے کہ سیالکوٹ کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی ۔ بجٹ پیش ہونے لگا ہے جو کہ ائی ایم ایف کے کہنے پر ہے سب ۔بجٹ کے بعد سب کو معلوم ہو گا کہ غریب عوام کے لئے اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ہمارے پارٹی کا موقف ہے کہ ملک میں ائین و قانون کی پاسداری ہو ۔خبیر پختونخوا میں سینٹ کے الیکشن نہیں ہوئے پورے ملک میں ہوگئے۔پورے ملک میں ائین کے مطابق تیس دنوں کے اندر الیکشن کروائے گئے ۔اپ اپنے ملک کے جمہوری اداروں پر حملہ آور نہیں ہو سکتے ہیں۔فئیر مقابلہ ہونا چائیے۔ہمارے پارٹی کا موقف ہے کہ ملک میں ائین و قانون کی پاسداری ہو ۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرعمر ایوب کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان اور ائیر فورس نے جو شاندار فتح حاصل کیا اس پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ان لوگوں کو جن کو سوشل دہشت گرد کہا جاتا تھا وہ بھارت کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر تھے ۔مودی سرکار نے پہلگام میں فالس فیک آپریشن کر کے پاکستان پر الزام عائد کیا۔بھارت اپنی جارحیت سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔ پاکستان تحریک انصاف اس وقت فرنٹ لائن پر بھارت کے خلاف کھڑے ہیں۔عبد الطیف چترال کے ایم این اے کے ساتھ جو کیا ہے وہ ظلم ہے مذمت کرتے ہیں۔سردار ایاز صادق نے پہلے بھی جب پارلمینٹ میں گھس کر پارلمینٹرین کو گرفتار کی تب بھی کچھ نہیں کیا۔اور اج جب ایم این اے چترال کو سزا دی گئی تب بھی خاموش ہیں۔سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں وہی تمام حربے استعمال ہوئے جو اٹھ فروری کو کئے تھے ۔کوئی ریٹنٹرنگ افسر نہیں جا سکا ۔۔آر او کے افس کے باہر کینٹرز کی دیواریں بنا دی گئی ۔سیکیورٹی اہلکاروں کا پی ٹی ائی کے لوگوں کو مارنے اور تشدد کے علاوہ کوئی کام نہیں۔پی ٹی ائی کے لوگوں کو ایجنٹس کو باہر نکل کر خود ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ترقیاتی بجٹ جو پچھلے سال مختص ہوا تھا اسکا ادھا بھی استعمال نہیں ہوا ۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بتائے کہ یہ بجٹ کہاں لگایا گیا۔مال مویشی میں اضافہ دیکھا، اور گدھوں میں اضافے دیکھا جس پر انکو شاباشی۔یہ کہتے ہیں اکانومی گرو کر رہی تو ملک میں مہنگائی کو کیوں نہیں کم کر سکے ہیں۔
مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاوس میں داخل ہو کر پارلمینٹرین کو گرفتار کیا گیا قانون خاموش ،آج بھی یہی سب ہو رہا ہے اسپیکر کوئی ایکشن نہیں لے ہیں ۔اگر کوئی کام نہیں ہو سکتا ہے جو اسپیکر سے کہتے ہیں اپ استعفیٰ دے دیں۔ہمارے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ان پر ایف ائی آر درج کی جاری ہے۔شاہ محمود قریشی کو ویل چئیر پر عدالت پہنچاتے ہیں تو اگے سے کہتے ہیں ہم نے بلایا ہی نہیں ۔عبد الطیف کے علاوہ چترال میں کیلاش قبیلے کے سابق ایم این اے وزیر زدا پر بھی ظلم کیا ۔
یہ بھی پڑھیں: چھٹی کلاس کےطالب علم سے زیادتی،مجرم کو 14 سال قید اور جرمانے کی سزا