جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا"سپیشل کور کمانڈرزشرکا  کا عزم 

May 02, 2025 | 18:58:PM
جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا
کیپشن: آرمی چیف جنرل عاصم منیر خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احمد منصور)آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیرصدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس نے امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیاکہ؛"جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا" پاکستان کے عوام کی امنگوں کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا، انشاء اللہ۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نشان امتیاز(ملٹری) کی زیرِ صدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی،فورم نے خطے کی موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ ،   بالخصوص پاک بھارت کشیدگی اور علاقائی سلامتی پر غور کیا،فورم نے پاکستان کی مسلح افواج کی کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کے خلاف ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا،آرمی چیف نے مسلح افواج کی غیر متزلزل پیشہ وارانہ مہارت، ثابت قدم حوصلے اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج   دفاع وطن کیلئے اپنی عوام کے ساتھ متحد ہو کر کھڑی ہیں۔

آرمی چیف نے تمام محاذوں پر چوکنا  رہنے  اور فعال تیاریوں کی اہمیت پر زور دیا،فورم نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم پر شدید اظہار تشویش کیا۔فورم نے شرکا نے کہاکہ  بالخصوص پہلگام  واقعے کے بعد بھارتی افواج لائن آف کنٹرول  کے معصوم شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔

فورم نے تشویش ظاہر کی کہ ؛" بھارتی فوج کی غیر انسانی اور بلا اشتعال کارروائیاں علاقائی کشیدگی کو بڑھاتی ہیں، جس کا  موثر اور مناسب جواب دیا جائے گا "

کانفرنس کے شرکا نے بھارت کی جانب سے سیاسی اور فوجی مقاصد کے حصول کے لئے مستقل طور پر  گھڑے جانے والے خود ساختہ بحرانوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ اندرونی انتظامی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ، بھارت پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے تحت ان اندرونی مسائل کو ہمیشہ سے بیرونی رنگ دیتا رہا ہے،   اس طرح کے واقعات سے بھارت یکطرفہ چالوں سےStatus quo کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے،جیسا کہ 2019 میں دیکھا گیا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370کی منسوخی کے ذریعے Status quoکو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کیلئے پلوامہ کا ڈرامہ رچایا۔

شرکا کانفرنس کا کہنا تھا کہ پہلگام  کے حالیہ واقعہ کا مقصد پاکستان کی توجہ مغربی سرحدوں  اور اقتصادی بحالی کیلئے  جاری  کوششوں  سے ہٹانا ہے کیونکہ ان دو عوامل میں پاکستان  فیصلہ کن اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے ،  بھارت کو ان مذموم ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی دہشتگرد پراکسیوں کو فعال کرنے میں ناکامی اٹھانی پڑے گی۔

شرکا فورم نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ؛اسی تناظر میں بھارت پہلگام واقعہ کی آڑ میں سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچا  کر پاکستان کے قانونی اور بنیادی  آبی حقوق کو غضب کرنے کے درپے ہے‘‘۔

بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس سے نا صرف پاکستان کی 24 کروڑ آبادی متاثر ہو گی  بلکہ  جنوبی ایشیا میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا ۔

شرکاء  کانفرنس نے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں براہ راست بھارتی فوج اور  انٹیلی جنس کے ملوث ہونے کے  ناقابل تردید شواہد پر بھی گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ  ریاستی سرپرستی میں ہونے والے یہ اقدامات بین الاقوامی  قوانین کی صریح خلاف ورزی  اور ناقابلِ قبول ہے۔

امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے فورم نے واضح کیاکہ؛"جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا" پاکستان کے عوام کی امنگوں کا ہر قیمت پر احترام کیا جائے گا، انشاء اللہ۔

شرکا کانفرنس  نے اس بات کا  بھی اعادہ کیا کہ ؛’’پاکستان کے امن اور ترقی کا راستہ کسی بھی بلاواسطہ یا  پراکسیز کے ذریعے پھیلائی جانے والی دہشتگردی،  جبر یا جارحیت سے نہیں روکا جاسکتا ‘‘بھارت  کی جانب سے جان بوجھ کر عدم استحکام کی کوششوں  کو قومی عزم اور واضح اقدامات سے شکست دی جائے گی۔

کانفرنس کے اختتام پر" آرمی چیف نے ملک کے دفاع کیلئے کی جانے والی  آپریشنل تیاریوں اور مورال پر تمام فارمیشنز اور سٹرٹیجک فورسز پر مکمل اعتماد کا اظہارکیا "۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب نے پاکستان کو  یقین دہانی کرا دی