جنگ یا جھڑپیں
حروف ۔۔۔ نوید چودھری
Stay tuned with 24 News HD Android App
ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ جنگ ہوگی یا سرحدی جھڑپیں یا پھر محض بڑھکیں لگانے کے بعد سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے ، پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد بھارتی حکومت نے جس بھونڈے طریقے سے واویلا کیا اور واقعہ کے صرف دس منٹ بعد ایف آئی آر بھی درج کرلی اس سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ یہ خالصتا فالس فلیگ آپریشن تھا۔ حکومت پاکستان کے ذمہ داران کافی عرصے سے دنیا کو بتا رہے ہیں کہ بھارت ، پاکستان کے خلاف کوئی جھوٹا کیس بنانے کے لیے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے ۔یہ تو نظر آرہا ہے کہ بھارت نے خود کوئی واردات کرکے پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کی جو منصوبہ بندی کررکھی تھی اس میں بری طرح سے ناکام ہوا ہے ۔باقی سب ایک طرف روس کا موقف ہی دیکھ لیں جس نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ لڑائی بلاجواز ہوگی ، دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کریں ۔
اب امریکہ بھی متحرک ہوگیا ہے ۔ ٹرمپ حکومت کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر خارجہ کو فون کرکے فوجی تصادم سے گریز کرنے اور بات چیت پر زور دیا ہے ۔ پاکستان پہلے ہی پیشکش کرچکا ہے کہ واقعہ پہلگام کی غیر جانبدارنہ اور شفاف انکوائری کے لیے تیار ہے۔ امریکہ نے دونوں ممالک کو اس تجویز کے حوالے سے آگے بڑھنے کا مشورہ دیا ہے ۔ اس دوران اطلاعات آرہی ہیں کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں کئی سیاحتی مقامات کو بند کردیا ہے ۔
ایل او سی کے نزدیک رہنے والوں کو فوری طور فصلیں کاٹنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔لمحے لمحے کی صورت حال سے باخبر حکومت پاکستان اور اسکی مسلح افواج بھی پوری طرح چوکس ہیں ۔ایسا نہیں لگتا کہ بھارت عالمی برادی کی بات آسانی سے مانے گا ، تو کیا کوئی بڑا حملہ ہوگا ؟ جنونی مودی گجرات کا قصائی ضرور ہے لیکن اس کو اچھی طرح سے علم ہے کہ پاکستان میں کسی شہری علاقے یا فوجی تنصیبات کو نشانے بنانے کا جواب نہ صرف فوری بلکہ بڑھ چڑھ کر آئے ، ایسی صورتحال پیدا ہوئی پاکستان کے پاس میزائلوں کی بارش کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوگا، اسی لیے آئی ایس پی آر کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت نے فوجی راستہ چنا تو یہ ان کی چوائس ہے، آگے معاملہ کہاں جاتا ہے وہ ہماری چوائس ہوگی۔ زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو بھارت کی اصل نیت سامنے آ جاتی ہے ۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس کا بڑا ٹارگٹ ہے ، مقامی اور بین الاقومی اداروں کے تخمینے یہی ہیں کہ ڈیفالٹ کے خطرے سے بچ نکلنے اور بتدریج بحالی کے بعد 2025ء پاکستان کی معاشی بہتری کا سال ہے ، وطن عزیز دفاعی طور پر پہلے ہی بے حد مضبوط اور بڑی حد تک خود انحصاری کی منزل کی جانب چل رہا ہے ۔ ایسے میں معیشت بھی ٹریک پر چڑھ جائے تو پھر دور دور کسی خطرے کا کوئی امکان باقی نہیں رہے ۔ بھارت کو یہی اصل تکلیف ہے ۔ اب وہ زیادہ سے زیادہ یہی کرسکتا ہے کہ مشرقی سرحدوں پر فوج کھڑی کردے ۔ ایل او سی کو گرم کرئے ۔ گولہ باری کرئے گا تو جواب بھی ملے گا ۔ بھارت اپنی سرحدوں یا مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب جنگی جہاز اڑائے گا تو یقیناً پاکستانی طیارے بھی فضاؤں میں بلند ہوں گے ۔ یہ سارا عمل بھی بڑے خرچے کا کھیل ہے ۔ اب آگے جو بھی ہو ہمیں بطور قوم پورے عزم کے ساتھ مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
جنگ نہ کرنے کے مشورے دینے اور حیلوں بہانوں سے تنقید کرنے کی بجائے یہ تاثر قائم کرنا ہوگا کہ عام پاکستانی بھی ہر لمحہ، ہر امتحان کے لیے تیار ہے ۔ فوجی صلاحتیوں کے ساتھ ہمارا قومی عزم مودی حکومت کو زیادہ دیر تک حالات کے دھارے کے سامنے ٹکنے نہیں دے گا ۔ خود بھارت کے اندر سے اس کے خلاف آوازیں بلند ہوتی چلی جائیں گے اور مودی اپنے بچھائے جال میں خود پھنس جائے گا۔ پاکستانی قوم کو پختہ ارادہ کرلینا چاہیے کہ اب ہم نے صرف اپنا دفاع نہیں کرنا بلکہ بار بار بزدلانہ اور اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرنے والے بھارت کو شکست دینی ہے ۔
’’ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی‘‘
اب کچھ بات ملک کے اندر ہونے والے سانحہ کے بارے میں ’’سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کیس غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے چیئرمین قاضی فائز عیسیٰ ریٹائر ہوگئے، آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کے باقی ممبر سپریم کورٹ میں تعینات ہوگئے ہیں‘‘ اس لئے کیس غیر مؤثر ہوچکا ۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے آڈیو لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کو چیلنج کیا تھا۔یعنی وہ اس معاملے کی انکوائری سے بچنا چاہتی تھی ۔آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے شہباز حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن بنایا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے پہلے اور مختصر دور میں اس حوالے کافی جوش و خروش دکھایا ، 2024 کے عام انتخابات کے بعد سارا معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا حالانکہ 26 آئینی ترمیم کے بعد اس حوالے سے پیش رفت اور کاررائی کرنا کہیں زیادہ آسان ہوگیا تھا ۔
آڈیو لیکس کے چند نمونے تو سب کو یاد ہی ہیں ’’ ہائے رافعہ اب کیا ہوگا ‘‘ بندیال کی ساس کے ججوں پر اثر انداز ہونے کا معاملہ ، فواد چودھری اور اسکے بھائی کی بندیال اور امیر بھٹی کی ’’ملاقات ‘‘کرانے اور ججوں کو ’’ٹرک ‘‘ پہنچانے کی گفتگو ۔ ثاقب نثار کے بیٹے کی جانب سے پی ٹی آئی کی ٹکٹیں بیچنے کی واردات وغیرہ وغیرہ ، سوال تو یہ بھی ہے کہ آئی ایس آئی کا سابق سربراہ جنرل فیض گرفتار ہوسکتا ہے تو سابق چیف جسٹس ، جج ، ان کے رشتہ دار اور ٹاؤٹ وکیل کیوں نہیں ۔ عام تاثر ہے کہ فیض کی حراست بھی مسلسل پنگے لینے پر ہوئی ، بار بار سمجھانے کے باجوود باز نہیں آرہے تھے ، زیادہ چالاکی دکھانے کی کوشش میں دبوچ لیا گیا ورنہ وہ بھی آج ریٹائر ججوں اور جرنیلوں کی طرح جگہ جگہ موجیں اڑا رہا ہوتا ۔ کسی کو اچھا لگے یا برا یہ طے ہے کہ جب تک ججوں اور جرنیلوں کا کڑا احتساب نہیں ہوتا تب تک دفاعی اور اقتصادی حوالوں سے ٹھوس بنیادوں پر استحکام حاصل ہوسکے گا نہ ہی پاکستان اور اسکے کروڑوں عوام کی حالت سدھرے گی ۔
’’اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر