کمسن بچی کو زیادتی کے بعدقتل کرنے والے مجرم کی اپیل خارج ،تحریری فیصلہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری)سپریم کورٹ نے کم سن بچی کو زیادتی کے بعدقتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مرضی سے نشہ کرنے والا مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کے دعوی کا حق نہیں رکھتا،جرم سے استثنیٰ کا دعوی اس وقت کیا جاسکتا ہے جب مرضی کیخلاف نشہ دیا جائے،عدالت عظمیٰ نے پانچ سالہ کمسن بچی کو زیادتی اور قتل کرنے والے مجرم کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
مجرم کیخلاف پانچ سالہ کم سن بچی کو زیادتی اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج ہوا تھا، ٹرائل کورٹ نے سزا موت سنائی جسے ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم کے وکیل نے نشہ کی حالت میں ہونے کے سبب سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے پر دلائل دیئے، مجرم نے بے دردی کیساتھ بچی کو قتل کیا، قانون واضح ہے کہ کسی شخص کو اس عمل کی سزا نہیں دی جاسکتی جس کے کرنے کا اسکا ارادہ نہ ہو،تاہم خود نشہ کرکے اسے اپنے دفاع میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے کہاکہ مجرم نے خود تسلیم کیا اس نے اپنی مرضی سے شراب پی،اپنی مرضی سے شراب پینے والا یہ حق نہیں رکھتا کہ مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ مانگے۔
یہ بھی پڑھیں:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں! نوٹیفکیشن دوبارہ جاری کر دیا گیا