آئس کریم کھانے سے سر درد کیوں ہوتا ہے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)گرمیوں کے موسم میں جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر چلا جاتا ہے تو لوگ ٹھنڈی اشیاء جیسے آئس کریم، قلفی یا برف والے مشروبات کا رخ کرتے ہیں، تاہم اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ٹھنڈی چیز کا ایک بڑا بائٹ لیتے ہی سر میں ایک تیز لہر اٹھتی ہے اور پھر خود ہی ختم ہو جاتی ہے، عام طور پر اسے ”برین فریز“ کہا جاتا ہے، کیا آپ نے کبھی سوچا کہ چند سیکنڈز کا یہ درد آخر ہوتا کیوں ہے؟
طبی زبان میں اسے ’آئس کریم ہیڈیک‘ یا یا ’اسفینو پیلاٹائن گینگلیون‘ کہا جاتا ہے۔ ہارورڈ میڈیکل سکول کی تحقیق کے مطابق، یہ درد دراصل ہمارے جسم کا ایک حیرت انگیز دفاعی نظام ہے جو دماغ کو اچانک درجہ حرارت گرنے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کوئی انتہائی ٹھنڈی چیز ہمارے تالو کے پچھلے حصے کو چھوتی ہے، تو وہاں موجود خون کی نالیاں فوری طور پر سکڑ جاتی ہیں۔
دماغ اس اچانک درجہ حرارت میں کمی کو ممکنہ خطرے کے طور پر محسوس کرتا ہے اور متاثرہ حصے کو دوبارہ گرم کرنے کے لیے زیادہ خون وہاں بھیج دیتا ہے۔ یہ جسم کا ایک حفاظتی ردعمل ہوتا ہے جس کا مقصد حساس بافتوں کو سردی سے محفوظ رکھنا ہے۔
خون کی نالیاں پہلے تیزی سے سکڑتی ہیں اور پھر اچانک پھیل جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی تیز تبدیلی درد کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔