پاکستان کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح کردیا گیا
تھلیسیمیا کا بڑھتاہوا رجحان تشویشناک،اس مرض کے ذمہ دار والدین ہیں،مصطفیٰ کمال
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ملک کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح کر دیا گیا۔
کراچی میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں تھلیسیمیا کا بڑھتاہوا رجحان تشویشناک ہے، حکومت اور قوم کی غفلت کے سبب تھلیسیمیا کے مریض آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نکاح سے قبل صرف لڑکے کا ٹیسٹ لازم قرار دے دیا جائے، دو مائنر جب شادی کرتے ہیں تو تھلیسمیا میجر بچہ پیدا ہوتا ہے، یہ سب کو معلوم ہے لیکن ٹیسٹ کوئی نہیں کرواتا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مجھے چند دن قبل علم ہوا کہ اعضا ءکی پیوندکاری کیلئے ایک الگ ادارہ ہے، اس میں بون میرو کو بھی شامل کردیا ہے، تھلیسیمیا کے مرض کا علاج خون کی منتقلی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے اور 50 ہزار میں سے کوئی ایک شخص بون میرو میچ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور کے حلقہ پی پی 167 میں ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بون میرو ٹرانسپلانٹ سے قبل اجازت کو ختم کیا، ہماری کوشش ہے کہ تھلیسیمیا کا ٹیسٹ نکاح سے قبل لازم قرار دیا جائے۔
وفاقی وزیر نے پولیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پولیو ویکسین سمیت دیگر چیزوں کے لیے پولیس لے کر جانی پڑتی ہے، ویکسین کو یہودیوں کا ایجنٹ اور بیرونی سازش قرار دے دیا جاتا ہے، آج تھلیسیمیا کے بچوں کے ذمہ دار صرف ان کے والدین ہیں۔