جسٹس طارق جہانگیری سمیت 3 ججز پر مشتمل ٹریبیونل کا فیصلہ اختیار سے تجاوز قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ ضلعی عدلیہ میں ڈیپوٹیشن ججز کو واپس بھیجنے کے ٹریبیونل آرڈر کے خلاف فیصلہ جاری کرتے ہوئے جسٹس طارق جہانگیری سمیت 3 ججز پر مشتمل ٹریبیونل کا فیصلہ اختیار سے تجاوز قرار دے دیا۔
ججز نے ریمارکس دیئے کہ ضلعی عدلیہ سروس ٹریبیونل کے خلاف پاس از خود نوٹس اختیار نہیں،جسٹس ارباب محمد طاہر نے جسٹس طارق جہانگیری ٹریبیونل کے خلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے جزوی طور پر جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے جسٹس طارق جہانگیری ٹریبیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیس کے میرٹس پر عدالت فیصلہ نہیں کر رہی ہے،کیس کے میرٹس کو ضلعی عدلیہ سروس ٹریبیونل دیکھ کر فیصلہ کرے گا۔
ججز نے ریمارکس دیئے کہ ٹریبیونل تبدیل ہونے کے بعد جسٹس طارق جہانگیری کی سربراہی میں ٹریبیونل فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں تھا،سروس ٹریبیونل کے اختیارات محدود ہیں ہائیکورٹ جج کی طرح نہیں ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کے وکیل نے بتایا کہ ان کو سنے بغیر ٹریبیونل نے ان کے خلاف فیصلہ دے دیا،عدالت جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی درخواست منظور کرتی ہے۔ ٹریبیونل کے فیصلے کو ڈیپوٹیشن پر موجود ججز کو واپس بھیجنے کی حد تک کالعدم قرار دیا جاتاہے۔
جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس اعجاز اسحاق نے بطور ٹریبونل ججز واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین و دیگر نے فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں :جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے : آرمی چیف