شرح سود بڑھانے کے بھاری معاشی نتائج ہو سکتے ہیں: گوہر اعجاز

شرح سود بڑھانے سے رواں سال 8 ٹریلین سود ادائیگیوں میں مزید 600 ارب روپے کا اضافہ ہوگا نتیجتاً عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا,سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے شرح سود میں اضافے پر سوال اٹھا دیئے

Apr 29, 2026 | 16:12:PM
شرح سود بڑھانے کے بھاری معاشی نتائج ہو سکتے ہیں: گوہر اعجاز
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(وقاص عظیم)سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے شرح سود میں اضافے پر سوال اٹھا دیئے، گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ شرح سود بڑھانے کے بھاری معاشی نتائج ہو سکتے ہیں ایک فیصد شرح سود بڑھانے سے قرضوں پر سود کی ادائیگی 600 ارب روپے بڑھ جاتی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ شرح سود بڑھانے سے رواں سال 8 ٹریلین سود ادائیگیوں میں مزید 600 ارب روپے کا اضافہ ہوگا نتیجتاً عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا۔سابق نگرا ن وفاقی وزیر اور چیئرمین ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ ڈاکٹر گوہر اعجاز نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایک فیصد شرح سود بڑھانے پر سوال اٹھا دیئے ہیں، گوہر اعجاز نے سوال کیا ہے کہ کیا شرح سود بڑھانے سے فیول بحران اور تیل کی قیمتوں سے ہونیوالی مہنگائی کو روکا جا سکتا ہے ؟ کیا پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافے سے اسٹیٹ بینک عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ روک سکتا ہے ؟کیا شرح سود میں ایک فیصد اضافے سے  ملک میں فیول کی کھپت کم ہوجائے گی ؟

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول کی قیمت 400سے تجاوز?پریشان کن خبر آ گئی

گوہر اعجاز نے کہا کہ  معروف ماہر معاشیات جوزف سٹگلیٹز کے مطابق سپلائی سائیڈ مہنگائی شرح سود بڑھانے سے کم نہیں ہو سکتی تاہم شرح سود بڑھانے کے بھاری معاشی نتائج ہو سکتے ہیں ایک فیصد شرح سود بڑھانے سے قرضوں پر سود کی ادائیگی 600 ارب روپے بڑھ جاتی ہے، شرح سود بڑھانے سے رواں سال 8 ٹریلین سود ادائیگیوں میں مزید 600 ارب روپے کا اضافہ ہوگا نتیجتاً عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالا جائے گا سود کی ادائیگیوں کے لیے عوام پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں گے۔