ایران کیلئے چاول، سمندری خوراک،ادویات اور متعدد اشیا برآمدکرنےپر اہم رعایات نافذ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) پاکستان کی حکومت نے پاکستان سے ایران کو چاول، سمندری خوراک ، ادویات اور کئی دوسری پروڈکٹس برآمد کرنے والوں کے لئے رعایات دے دیں۔
پاکستان نے جنگ زدہ ایران اور ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے اہم رعایات دیتے ہوئے ایران کے راستے برآمدات کرنےکے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط ختم کر دی۔ یہ عارضی استثنیٰ ہے۔ اس سے پہلے ایران کے راستے اور خود ایران کے لئے ایکسپورٹ کرنے والوں کو باقی دینا کے ممالک کے لئے ایکسپورٹ کی طرح بینک گارنٹی اور ایل سی کے ضوابط کے مطابق انتظامات کرنا لازم تھے۔
آج جاری کئے گئے اعلامیےکے مطابق وفاقی وزارت تجارت کی جانب سے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے برآمدات پر فنانشل انسٹرومنٹ سے عارضی استثنیٰ منظورکر دیا ہے۔ زمینی راستے کے ذریعے ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کو برآمدات کی اجازت دے دی گئی۔
وفاقی حکومت نے ایران کو چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور پھلوں سمیت متعدد اشیاء برآمدکی اجازت دی ہے، دوائیں اور دوسری فارماسیوٹیکل مصنوعات اور خیموں وغیرہ کو بھی رعایت دی گئی فہرست میں شامل رکھا گیا ہے۔ اب ان تمام اشیا کی ایران کو یا ایران کے راستے دوسرے ملکوں کو ایکسپورٹ کے لئے ایکسپورٹرز کو بینک گارنٹی اور ایل سی کا اہتمام نہیں کرنا پرے گا اور ایرانی عوام کی ضرورت کی اشیا کی ایکسپورٹ کم وقت اور کم سرمایہ سے ممکن ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیئے: امارات نے ایرانی میزائل اور ڈرون اٹیک انٹرسیپٹ کر لئے، شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
وزارت تجارت کے مطابق سٹیٹ بینک کے ضوابط س ایکسپورٹس کے لئے سخت ہین اور بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ہیں لیکن ایرانی عوام کو درپیش صورتحال کے پیش نظر انہیں ضروری اشیا کی قلت سے بچانے کے لئے پاکستان کی ھکومت نے یہ بڑا اقدام کیا ہے کہ ایکسپورٹ کے پروسیس کو آسان تر کر دیا اور بینک گارنٹی اور ایل سی کے متعلق قواعد سے عارضی، جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
برآمدی سامان سے ہونے والی آمدن مقررہ مدت میں پاکستان لانے کا قاعدہ برقرار ہے، اس اقدام سے ایران کے عوام کو بہت ضروری مدد ملے گی اور اس کے ساتھ خطے میں تجارتی روابط کو بھی تقویت ملے گی۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال کے مطابق 3 ماہ کے لیے یہ خصوصی رعایت دی گئی ہے، یہ رعایت 24 مارچ سے نافذ ہو چکی ہے اور 21 جون 2026 تک نافذالعمل ہوگی۔
جام کمال نے بتایا کہ پاکستان کی اس رعایت سے ایران کے راستے تجارت کرنے والے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئےگی۔
جام کمال نے کہا کہ ہم برآمدات میں اضافہ کرکے پاکستان کو معاشی استحکام کی طرف لے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیئے: ابو ظہبی:میزائل حملہ ناکام ،ملبہ گرنے سے5 افراد زخمی ہوگئے