پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئیل اوفینڈر بل 2026  سٹینڈنگ کمیٹی سے منظور بھی ہو گیا، سپیکر بےخبر

Jun 28, 2026 | 22:02:PM
  پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئیل اوفینڈر بل 2026  سٹینڈنگ کمیٹی سے منظور بھی ہو گیا، سپیکر بےخبر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(راؤ دلشاد) پنجاب میں انگریز نو آبادیاتی حکومت کے "غنڈہ ایکٹ" کی جگہ جدید   پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئیل اوفینڈر بل 2026  پنجاب اسمبلی میں پیش ہو کر سٹینڈنگ کمیٹی سے منظور بھی ہو گیا اور سپیکر ملک احمد خان کہتے ہیں کہ مجھے اس بل کے پیش ہونے کا بتایا کیوں نہیں گیا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئیل اوفینڈر بل 20260کے ایوان میں ٹیبل ہونے پر لاعلمی کا اظہار  کر دیا اور کہا کہ وہ اس سلسلہ میں  لاعلم رکھے جانے پر سخت ایکشن لیں گے۔ 
معلوم ہوا ہے کہ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون خالد محمود رانجھا نے ایوان میں یہ بل پیش کیا  جس کا مقصد سماج دشمن عناصر اور عادی جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں پر نطر رکھنا اور ان کی قانون شکنی کا قلع قمع کرنا ہے۔ جس وقت یہ بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا اس وقت سپیکر کے قائم مقام،پینل آف چیئرپرسن افتخار احمد چھچھر  نے  اس بل کو متعقلہ اسٹینڈنگ کمیٹی کو ریفر کر دیا تھا۔  آج سپیکر ملک احمد خان نے اچانک یہ دعویٰ کیا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں کہ یہ بل پنجاب اسمبلی میں پیش ہو بھی گیا ہے۔

نو صفحات پر مشتمل اس مسودہ قانون میں جرائم پیشہ افراد، عادی قانو شکن اور سماج دشمن عناصر کی ضرورت پڑنے پر الیکٹرانک ڈیوائس کے ساتھ مونیٹرنگ کرنے کے متعلق شق شامل ہے۔ مسودہ قانون کے مطابق  عادی مجرموں اور اینٹی سوشل عناصر کا تعین ضلع کے ریٹائرڈ سیشن جج،  سینئیر موسٹ پولیس افسروں اور ایک اسسٹنٹ کمشنر پر مشتمل کمیٹی کرے گی۔ جب ضرورت پڑے گی تو طے شدہ طریقہ کار پر عمل کر کے اینٹی سوشل اور عادی مجرموں کو جرائم سے روکنے کے لئے ان کی نگرانی بذریعہ الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:  سابقہ اہلیہ کی کردارکشی کرنے پر سابق شوہر پر 5لاکھ روپے جرمانہ عائد 

بل کے تحت  منشیات بیچنے کا اڈا چلانا، جسم فروشی اور شراب نوشی کا اڈا چلانا، جوئے اور قمار بازی کا اڈا چلانا اور کئی دوسرے سنگین جرائم تسلسل کے ساتھ  کرنا کسی جرائم پیشہ کو اس قانون کی زد مین لا کر پابندیوں اور نگرانی کا حق دار بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر  عادتاً افواہیں پھیلانا بھی سماج دشمن رویہ قرار دیا گیا ہے۔  اس بل میں عادی مجرموں کے باز نہ آنے پر ان کے پاسپورٹ، شناختی کارڈ بلاک کرنے اور بینک اکاؤنٹ معطل کرنے سے لے کر جائیدادیں ضبط کر لینے تک بہت سی مرحلہ وار تادیبی کارروائیوں کا ذکر ہے۔ تاہم کوئی بھی کارروائی تین ماہ سے زیادہ نافذ العمل نہیں رہے گی۔ اقدامات کی میجسٹریت سے منطوری لینا ہو گی۔ 

یہ بل پہلے سے موجود غنڈہ ایکٹ کی جگہ لے گا۔ یہ اہم بل پنجاب اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے گزشتہ روز منظور ہوا۔ اب اسے پنجاب اسمبلی میں دوبارہ پیش کیا جائے گا اور رائے شماری کے بعد یہ بل گورنر کے دستخط کیلئے بھیجا جائے گا اور گورنر کے دستخط ہونے کے بعد یہ بل  سے بدل کر ایکٹ آف لا بن جائے گا جسے    پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئیل اوفینڈر ایکٹ  2026 کا نام دیا جائے گا۔

  پنجاب حکومت کا "پنجاب عادی مجرمان اور معاشرہ مخالف برتاؤ پر قابو ایکٹ 2026" پنجاب اسمبلی میں پچھلے اجلاس میں پیش ہوا، 

عادی مجرموں کی نگرانی کے لیے پہلی بار الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی تفتیش کے بعد کسی شخص کو عادی مجرم قرار دے سکے گی،  عادی مجرم قرار دیے گئے شخص کو الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس پہننے کا حکم دیا جا سکے گا،  متعلقہ مجسٹریٹ ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر نگرانی کا حکم جاری کرے گا، مجسٹریٹ کو عادی مجرموں سے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا بھی اختیار تجویز،  کیا گیا ہے۔ 

الیکٹرانک نگرانی ابتدائی طور پر تین ماہ تک جاری رکھی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر نگرانی کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔ مانیٹرنگ ڈیوائس کے ذریعے نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔ 

قانون کے تحت  صرف  بار بار جرائم کرنے والوں کو  ہی عادی مجرم قرار دیا جا سکے گا۔ منظم جرائم میں ملوث افراد بھی قانون کی زد میں آئیں گے۔ معاشرہ مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بھی عادی مجرم قرار دیا جا سکے گا۔  نفرت آمیز تقاریر اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر قانون کے دائرہ کار میں شامل ہوں گی۔

بلیک میلنگ اور دھمکیاں دینا معاشرہ مخالف سرگرمی تصور ہوں گی۔ ہتھیاروں کی نمائش کرنا ہوائی فائرنگ کرنا اور خواتین کو ہراساں کرنا بھی قانون کے تحت اینٹی سوشل رویہ ہے۔ 

پبلک کے سامنے عریاں حرکات، جوا کروانا اور شراب فروخت کرنا معاشرہ مخالف رویہ ہے اور  جعلی دستاویزات تیار کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ممکن ہوگی۔

عادی مجرموں کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور بائیومیٹرک معلومات سرکاری ڈیٹا بیس میں محفوظ ہوں گی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے عادی مجرموں کی مکمل پروفائلنگ کر سکیں گے۔ 

یہ بھی پڑھیں:  درندہ نما انسان نے خاتون کو قتل کر کے ان کی لاش کی بھی بے حرمتی کی اور اسے آگ لگا دی 

کمیٹی کسی جرم کا بار بار ارتکاب کرنے والے شخص کو عادی مجرم قرار دینے کا اختیار رکھے گی۔

ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی بینک اکاؤنٹس منجمد کروا سکے گی۔

کمیٹی پاسپورٹ بلاک کروانے کی سفارش بھی کر سکے گی،۔

عادی مجرموں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کروائے جا سکیں گے۔

سائبر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی بھی ممکن ہوگی۔

ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی ہر ماہ اجلاس منعقد کرنے کی پابند ہوگی۔

کمیٹی کے فیصلے نیک نیتی پر مبنی تصور کیے جائیں گے۔

ڈویژنل کمشنر ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کے کنوینر ہوں گے۔

سینئیر پولیس افسران کمیٹی کے رکن ہوں گے۔

سپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی کے نمائندے بھی کمیٹی میں شامل ہوں گے۔

وفاقی انٹیلیجنس اداروں کے نمائندے بھی کمیٹی کا حصہ ہو سکیں گے۔

الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس کی شرائط پر عملدرآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ضمانتی مچلکوں کی شرائط کی پابندی بھی لازمی ہوگی۔

قانون کی خلاف ورزی پر تین سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

متاثرہ شخص کو ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

متاثرہ شخص ٹریبونل میں بھی اپیل دائر کر سکے گا۔

فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکے گی۔

ریاست کی رٹ کے قیام کے لیے قانون کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

عوامی امن و امان کے تحفظ کو قانون کا بنیادی مقصد قرار دیا گیا۔

منظم جرائم کی روک تھام کے لیے جدید نگرانی کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر نگرانی قانون کا اہم مقصد ہے۔ 

آج اس وقت پنجاب اسمبلی میں دلچسپ سورتحال پیدا ہو گئی جب سوشل میدیا پر بعض حلقوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنائے جا رہے اس ضروری بل کو پنجاب اسمبلی میں پیش کئے جانے پر سپیکر ملک احمد خان لاعلم نکلے۔ 

سپیکر نے پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈرز بل 2026ء بل سے لاعلمی کااظہار کرتے ہوئے کہا، بل  ایوان میں پیش ہوا تو اس وقت مجھے بتایا کیوں نہیں گیا۔ میں اس بل سے خود کے لاعلم ہونے پر سخت ایکشن لوں گا۔ انگریز دور کا نوآبادیاتی نظام کا قانون ممکن نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں آج بھی اپوزیشن کا ہنگامہ، احسن رضا کے خلاف تقریرں، احسن رضا کا سیدھا جواب