سابقہ اہلیہ کی کردارکشی کرنے پر سابق شوہر پر 5لاکھ روپے جرمانہ عائد

Jun 18, 2026 | 19:14:PM
سابقہ اہلیہ کی کردارکشی کرنے پر سابق شوہر پر 5لاکھ روپے جرمانہ عائد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)

(ویب ڈیسک)  سپریم کورٹ آف پاکستان نے  طلاق کے بعد سابق اہلیہ پر الزام تراشی میں ملوث شخص پر بھاری جرمانہ عائد کردیا، عدالت نے قرار دیا کہ  خلع کے بعد خاتون کو مقدمہ بازی میں پھنسانا  خاتون عزتِ نفس اور خودمختاری پر شدید حملہ ہے۔

سپریم کورٹ نے عورتوں کے حقوق کے متعلق ایک اہم فیصلہ صادر کیا ہے۔  طلاق کے بعد سابق شوہر کی الزام تراشی اور مقدمہ بازی سے پریشان خاتون شہری کے خلاف سابق شوہر  کی پیٹیشن پر عدالت عظمی نے یہ حکم دیا کہ الزام تراشی میں ملوث سابق شوہر متاثرہ خاتون کو  5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرے۔

 سپریم کورٹ نے 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ سابق شوہر 30 دن کے اندر جرمانے کی رقم اپنی سابق اہلیہ کو ادا کرے گا، جرمانہ  ادا نہ کرنے کی صورت میں فیملی کورٹ کے ذریعے وصول کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے، اپنے عدالتی نظیر بننے کے لائق، اس اہم فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ خلع کے بعد خاتون کو مقدمہ بازی میں پھنسانا  دراصل خاتون کی عزتِ نفس اور خودمختاری پر شدید حملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے عدالتی عمل کا غلط استعمال کرنے والے سابق شوہر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

عدالت  عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سابق شوہر نے خاتون پر بدکردار ہونے کا الزام لگایا ۔اس الزام تراشی کا مقصد خاتون کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ قانونی طور پر خلع لینے اور عدت مکمل کرنے کے بعد خاتون کو دوسری شادی کا مکمل حق حاصل ہے۔

مقدمہ بازی کو ہراساں کرنےکاہتھیار نہیں بنایا جا سکتا، عدالتیں خبردار رہیں

 عدالت نے قرار دیا  کہ خلع کے بعد دوسری شادی کرنے کے لیے خاتون کو سابق شوہر سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔  جھوٹے فوجداری مقدمات اور کردار کشی کا مقصد صرف دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔

 سپریم کورٹ نے قرار دیا  کہ خواتین کے خلاف مقدمہ بازی کو  ہراساں کرنے اور خواتین کی  تذلیل کرنے کے لیے  ہتھیار کے طور پر  استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ 

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ ملک بھر کی عدالتیں نکاح کے تنازعات میں قانون کے غلط استعمال  کے متعلق ہوشیار رہیں، بدنیتی پر مبنی مقدمہ بازی کو روکنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے اپنے لینڈ مارک فیصلے میں لکھا کہ سائلین کی عزتِ نفس کا تحفظ کرنا عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق شوہر کی اپیل خارج کر دی۔

پس منظر

 2014 میں پشاور کی فیملی کورٹ نے حق مہر  کی رقم سے دستبردار ہونے کی شرط  پر خاتون کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کی تھی۔سابق شوہر پر اہلیہ پر تشدد، گھر سے نکالنے اور 4 سالہ بیٹی کو ماں سے جدا رکھنے کے الزامات تھے،فیملی کورٹ نے کمسن بچے کی تحویل ماں کے سپرد کی تھی۔

 خلع اور عدت کی تکمیل کے بعد خاتون نے دوسرا نکاح کیا تو سابق شوہر نے ان کے خلاف الزام تراشی پر مبنی مقدمہ بازی شروع کردی تھی۔سابق شوہر نے دفعہ 22-اے کے تحت مقدمہ اندارج کی درخواست دی کہ خاتون اب بھی اس کے نکاح میں ہے،متعلقہ ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا کہ مجسٹریٹ کے سامنے یہ الزامات پہلے ہی مسترد ہو چکے ہیں،22-اے کی درخواست خارج ہونے پر سابق شوہر نے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس مقدمہ بازی نے متاثرہ خاتون کو 12 سال سے پریشان کر رکھا تھا۔ آج عدالتِ عظمیٰ نے خاتون کو ملنے والی اذیتوں کا ازالہ کرنے کے لئے انہیں پانچ لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا اور زیریں عدالتوں کو آئندہ ایسے معاملہ مین محتاط رہنے اور خواتین کو ہراسانی سے بچانے کی ہدایت جاری کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہونے کا امکان؟ عوام کیلئے بڑاسرپرائز