لاہور ہائیکورٹ کا خلع اور مالی حقوق سے متعلق اہم فیصلہ

Sep 16, 2026 | 10:54:AM
لاہور ہائیکورٹ کا خلع اور مالی حقوق سے متعلق اہم فیصلہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے خلع اور خواتین کے مالی حقوق سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خاتون کا مقدمہ صرف علاقائی دائرہ اختیار کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے خاتون شگفتہ بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا خاتون کے حق میں سنایا گیا فیصلہ بحال کردیا۔

جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سائلہ شگفتہ بی بی کی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔

فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ بیوی کا عام رہائشی مقام مستقل رہائش کا پابند نہیں ہوتا، خلع کے مقدمے میں بیوی جہاں رہ رہی ہو، وہاں کی فیملی کورٹ کو مقدمہ سننے کا اختیار حاصل ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ علاقائی دائرہ اختیار سے متعلق اعتراض کو موروثی دائرہ اختیار کی کمی قرار نہیں دیا جاسکتا، اگر کسی فریق کو کارروائی سے کوئی نقصان نہ ہو تو صرف علاقائی دائرہ اختیار کا اعتراض مقدمہ ختم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

فیصلے کے مطابق اپیلٹ کورٹ نے خاتون کی رہائش سے متعلق ایک بیان کو بنیاد بنا کر دیگر شواہد کو نظرانداز کیا،خاتون کے والد کا بیان بھی جہانیاں کی حدود میں اس کی رہائش کے مؤقف کی تائید کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ہیلی کاپٹر گر گیا

عدالت نے مزید قرار دیا کہ صرف ایک پتے کا ذکر خاتون کی عام رہائش ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ خلع کے دعوے کے ساتھ نان نفقہ اور جہیز کے دعوے بھی ایک ہی مقدمے میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔

خاتون نے علاقائی دائرہ اختیار کی بنیاد پر اپنا مقدمہ خارج کیے جانے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، عدالت نے اس کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کردیا۔

فیملی کورٹ نے خاتون کے حق میں عدت کے دوران 15 ہزار روپے اور جہیز کی اشیا کی متبادل قیمت کی مد میں ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔