مشترکہ مفادات کونسل نے کینال منصوبہ مسترد کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی)وزیراعظم کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے کو مسترد کردیا، جس کے بعد حکومت نے متنازع منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ کوئی بھی نئی نہروں کا منصوبہ صوبوں کی رضامندی کے بغیر سی سی آئی کی منظوری کے بغیر شروع نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں صوبوں اور وفاق کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52 واں اجلاس ہوا، اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی ۔مشترکہ مفادات کونسل نے پہلگام حملے کے بعد بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی،مشترکہ مفادات کونسل نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ممکنہ بھارتی جارحیت اور مس ایڈونچر کے تناظر میں پورے ملک و قوم کیلئے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
مشترکہ مفادات کونسل کے شرکا نے کہاکہ پاکستان ایک پر امن اور ذمہ دار ملک ہے لیکن ہم اپنا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔
اجلاس میں تمام وزراء اعلیٰ نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف وفاقی حکومت کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہنے کا عزم کااظہار کیا،مشترکہ مفادات کونسل نے سینیٹ میں بھارتی غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خلاف قرارداد کی بھر پور پذیرائی کی۔
اجلاس کو سی سی آئی سیکرٹریٹ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی مالی سال 2021-2022 ، مالی سال 2022-2023 اور مالی سال 2023-2024 کی رپورٹس پیش کی گئیں۔
مشترکہ مفادات کونسل نے سی سی آئی سیکرٹریٹ ریکروٹمنٹ رولز کی منظوری دے دی۔
اجلاس کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سال 2020-2021, سال 2021-2022 ، سال 2022-2023 اور سٹیٹ آف انڈسٹری کی سال 2021, 2022 اور 2023 کی رپورٹس پیش کی گئیں۔
مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہروں کے حوالے سے مندرجہ ذیل فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں ایکنک کا 7 فروری کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔شرکا نے اتفاق کیا کہ کوئی بھی نئی نہروں کا منصوبہ صوبوں کی رضامندی کے بغیر سی سی آئی کی منظوری کے بغیر شروع نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں صوبوں اور وفاق کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ طویل المدتی زرعی اور آبی پالیسی کے لیے مشاورت کرے گی۔تمام صوبوں کے آبی حقوق 1991 کے معاہدے اور 2018 کی پالیسی میں محفوظ ہیں۔
سی سی آئی کے شرکا نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پانی روکنے پر پاکستان آبی مفادات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے
اجلاس میں ملک کی غذائی اور ماحولیاتی سلامتی کے تحفظ کے لیے نئی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔نئی کمیٹی طویل المدتی زرعی ضروریات اور آبی استعمال کے حل تجویز کرے گی۔پانی سب سے قیمتی اثاثہ ہے، آئین میں تمام پانی کے تنازعات افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زوردیا گیا ہے۔
سی سی آئی نے نئی نہروں کی منظوری سے متعلق 7 فروری 2024 کی عارضی ECNEC منظوری واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔پلاننگ ڈویژن اور ارسا کو تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔