حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان خلاہے، شہباز سے جرنیل تک سب توبہ کریں،محمود خان اچکزئی

Jun 27, 2026 | 20:30:PM
 حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان خلاہے، شہباز سے جرنیل تک سب توبہ کریں،محمود خان اچکزئی
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  قومی اسمبلی مین اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ  پاکستان کاآئین احتجاج کی اجازت دیتا ہے. حکومت اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان خلا پیداہو چکا ہے.ہم سے جو ہو سکا وہ ہم کریں گے۔

محمود خان  اچکزئی نے یہ باتیں اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے ساتھ ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر، دیگر رہنماؤں اور حافظ نعیم الرحمان کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

محمود اچکزئی نے کہا،  پتہ نہیں پاکستان کو نظر بد لگ گئی یا ہماری اپنی فاقہ مستی کا نتیجہ ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ کشمیری اس حدتک کیوں پہنچے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا، ہمیں شہباز سے لے جرنیل اورسب کو توبہ کرنے چاہیئے.

حافظ نعیم الرحمان نے کہا،  آزاد کشمیر کی صورتحال پر  ہم تشویش میں ہیں۔ امن کو موقع نہ دیا گیا توایسی دراڑ پیدا ہوگی کہ جس کو بھرنا ممکن نہ ہوگا۔  جماعت اسلامی نے ثالثی کی پیشکش کی ہے.  ثالثی اسی وقت ممکن ہے  جب دونوں فریق ثالثی پر اتفاق کریں۔  ملک اور کشمیر کاذ کے لیے لازم تھا کہ ہم کام کریں۔

حافظ نعیم الرحمان نے الزام لگایا کہ حکومت کہ طرف سے وہ اقدامات نہیں کیے گئے جس کے مثبت اثرات ہوں۔ احتجاج کرنے والوں اورحکومت کی پوزیشن مختلف ہوتی ہے.  بات چیت پاکستان کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ہی ہوگی۔ اللہ کرے یہ کوشش بابرکت ہو۔

بیرسٹر گوہر کی گفتگو

بیرسٹر گوہر نے کہا ہم تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر  کوشش کریں گے کہ مسئلہ حل ہو۔

پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی اس پر کیٹیگریکلی بیان دیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے عوام پر مشتمل ہے۔ ان کے مطالبات کو ہم جائز مانتے ہیں۔ ہم نے یہی کہا ہے کہ جن مطالبات پر حکومت نے پہلے اتفاق کیا، ان کو حل ہونا چاہئے۔  ان کے جو مطالبات ابھی حل کے طلبگار ہیں، ان پر ایسی جوائنٹ ایفرٹ ہونی چاہئے کہ عوام کے جان و مال کو نقصان نہ ہو اور  کشمیر کاز کو نقصان نہ پہنچے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ  جب آپ مقبول ترین لیڈر کو سائیڈ لائن کرتے ہیں تو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات نہ ہوئے 36 ہفتے ہو گئے ہیں۔ جب تک آپ لوگوں کو حقوق نہیں دین گے تب تک حالات بہتر نہیں ہوں گے۔کل عمران خان سے ادیالہ جیل میں ملاقات کا دن ہے ، ہماری کل ملاقات کروائی جائے۔

پی ٹی آئی کے لیڈر مصطفی نواز کھوکھرکی گفتگو

پی ٹی آئی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان آج اس گھمبیر مسئلے کے حل کی تلاش کے لیے آئے ہیں۔ کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے ہم پریشان ہیں۔  آزاد کشمیر کے سیاسی عمل کو داغدار کردیا گیا ہے۔

 مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ اگر آج کشمیر میں الیکشن ہوں تو کشمیر  کےعوام کا ان پر اعتماد نہیں ہو گا۔ مصطفی نواز کھوکھر نے الزام لگایا کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کو کشمیر میں حکومت سازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے.  رانا ثناءاللہ نے 12 سیٹوں کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا۔  معاملات کو یہاں تک پہنچانے میں مسلم۔لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا کردار ہے۔ خواجہ آصف کا بیان جلتی پر تیل کے مترادف ہے. اگر حالات ہاتھ سے نکلتے ہیں توپاکستان کے عالمی سطح پر موقف کو نقصان ہو گا۔ کشمیر کی صورتحال بہتر بنانے میں جماعت اسلامی کی کوششیں خوش آئند ہیں۔


قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی گفتگو

محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، پتہ نہیں پاکستان کو نظر بد لگ گئی یا ہماری اپنی فاقہ مستی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کاآئین احتجاج کی اجازت دیتا ہے.حکومت اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان خلا پیداہو چکا ہے.  ہم سے جو ہو سکا وہ ہم کریں گے۔

 محمود خان اچکزئی نے کہا کہ  دیکھنا ہو گا کہ کشمیری اس حدتک کیوں پہنچے۔ ہمیں شہباز سے لے جرنیل اورسب کو توبہ کرنے چاہیئے. 

حافظ نعیم الرحمان کی گفتگو

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ  لوگوں میں اس وقت غصہ آتا ہے جب آپ عوامی مینڈیٹ کا احترام۔نہیں کرتے۔ اس چیزسےسب نے فائدہ اٹھایاہے.  مسئلے کی جڑ کو بھی پکڑیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا، جو بھی بات چیت ہوگی وہ پاکستان اور  پاکستانی آئین کے فریم ورک میں ہوگی۔ کمیونیکیشن نہ ہونے کی وجہ سے جب اس طرح کی تحریکیں چلتی ہیں تو  کچھ باتیں غیر ذمہ دارانہ بھی ہو جاتی ہیں۔ توازن بگڑ بھی جاتا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے اپنی بعض باتوں سے پیچھے بھی ہٹ گئے ہیں۔ مسئلہ اعتماد کا ہے، ہم اعتماد کا بحران دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ لوگ پاکستان کے فریم ورک میں بات کرنے پر آمادہ ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے سوال کے جواب میں کہا کہ سیاسی قیدیوں کی بندش کے حوالے سے ہمارا واضح مؤقف ہے ۔