فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل منظور

Jan 27, 2026 | 09:00:AM
فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل منظور
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)فرانس کے ایوانِ زیریں نے 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا بل منظور کرلیا ہے، تاہم اس قانون کے نفاذ کے لیے سینیٹ سے منظوری ابھی باقی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ اقدام بچوں کو آن لائن ہراسانی، نفسیاتی دباؤ اور ذہنی صحت کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔

فرانس کی قومی اسمبلی میں بل کے حق میں 116 جبکہ مخالفت میں 23 ووٹ ڈالے گئے، اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ایوانِ زیریں میں اس پر حتمی ووٹنگ ہوگی۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ کم عمر بچوں میں سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث ذہنی صحت کے مسائل میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جسے روکنے کے لیے قانون سازی ناگزیر ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا میں شدید برفانی طوفان سے نظام زندگی منجمد، دفاتر اور سکول بند، 30 افراد ہلاک

بل میں مڈل سکولوں میں سمارٹ فونز کے استعمال پر عائد پابندی کو ہائی سکولوں تک توسیع دینے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے، تاکہ تعلیمی ماحول کو زیادہ محفوظ اور توجہ مرکوز رکھنے والا بنایا جا سکے۔

 فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بھی اس بل کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں وہ اس سے قبل بھی نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور جارحانہ رویوں کا ایک بڑا سبب سوشل میڈیا کو قرار دے چکے ہیں۔

صدر میکرون کا مؤقف ہے کہ کم عمری میں سوشل میڈیا تک غیر محدود رسائی بچوں کی نفسیاتی نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

 اسی لیے وہ آسٹریلیا کی طرز پر فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے خواہاں ہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا پہلے ہی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے دروازے بند کرچکا ہے۔

ہ فرانس کا یہ اقدام یورپ میں بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق ایک اہم اور فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔