معین قریشی، سلیم بخاری، اطہر کاظمی کی سہیل آفریدی سے روا سلوک کی مذمت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)پنجاب کے اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے کہا ہے کہ جب وزیراعلی خیبر پختونخواہ نے لاہور آنا تھا اس سے ایک رات پہلے ہمارے ورکرز کے گھروں میں چھاپے مارے گئے۔
پروگرام نسیم زہرا @پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی نے کہا کہ اٹک، چکری ، ٹھوکر نیاز بیگ پر جو کچھ کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے،وہاں کوئی جلسہ نہیں تھا ، وزیر اعلیٗ خیبر پختونخواہ اپنے پنجاب کے ممبران سے ملنے آ رہے تھے، پنجاب اسمبلی میں دو سو کے قریب یوٹیوبرز تھے جنہیں میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا جنہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سے سولات کیے۔ جب تک حکومت ایک قدم آگے نہیں آئے گی تب تک کچھ ممکن نہیں۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا کہ جو لسٹیں دی گئی ہیں ان سے کہیں زیادہ لوگوں نے اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس طرح کے سوالات وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سے کیے گئے یا کروائے گئے ، اس پر جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ ہر کوئی مذاکرت ، مذاکرات کھیل تو رہا ہے لیکن کسی کی بھی نیت نہیں، کیا کوئی ایک شخص بھی پارٹی میں نہیں تھا جسے جس کو اس موومنٹ کا ہیڈ بنایا جا سکے ۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار اطہر کاظمی نے کہا کہ اگر کوئی عمران خان کو بائے پاس کرے گا تو سیاسی طور پر اپنا نقصان کرے گا، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کو حکومت تو اہمیت دے گی لیکن پی ٹی آئی نہیں، اگر شاہ محمود قریسی ، اعجاز چوہدی یاسمین راشد عمران خان سے جا کر ملتے ہیں تو باہر آ کر یہ وہ بات نہیں کریں گے جو باقی لوگ کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہری پور الیکشن میں مسلم لیگ ن کمپین کرتی رہی کسی نے انہیں نہیں روکا، ایسے ہی پی ٹی آئی والوں کو بھی لاہور آنے کی اجازت ہونی چاہئے، حکومت کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے پہل کرنی پڑے گی۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئر سیاستدان فواد چوہدری نے کہا کہ پچھلے سالوں سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس کوشش میں ہے کہ عمران خان کی سیاسی قدر ختم ہو، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس کام میں کامیاب نہیں ہوئی، پی ٹی آئی نے پوری کوشش کی کہ انقلاب آئے سٹریٹ پاور کے ذریعے حکومت کو چلتا کیا جا سکے جو نہیں ہو رہا ہے۔
فواد چودھری نے کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان کی اکانومی متاثر ہو رہی ہے، جب میں عمران خان سےاگست میں ملا تھا تو میں نے کہا کہ ہم بندوقیں لے کر پہاڑوں پر نہیں چل سکتے آپ موقع دیں تو ہم ایک اپوزیشن اتحاد بنا سکیں۔
انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمٹ ، حکومت اور عمران خان سمجھیں گے کہ سیاسی درجہ حرارت نیچا لانا ہے تو ہی آئے گا۔ پی ٹی آئی کے جو لوگ باہر ہیں وہ عمران خان کو نہیں جانتے نہ عمران خان انہیں جانتے ،جو لوگ عمران خان کو جانتے ہیں وہ کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور یہ لوگ بات کریں گے تو اس کا وزن ہوگا۔
فواد چودھری کے مطابق عمران خان کا مزاج ایسا نہیں ہے کہ وہ نئے لوگوں سے کھل کر بات کریں۔ فواد چوہدی نے مزید کہا کہ ہم نے صدر زرداری صاحب اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی درخواست کی ہے، وہ اسٹیبلشمنٹ سے بھی بات کریں گے، حل یہی ہے کہ پہلے حکومت ایک قدم آگے لے تو ہم عمران خان سے درخواست کریں گے کہ وہ ایک قدم پیچھے ہوں۔
یہ بھی پڑھیں :بینظیر کی زندگی پیغام ہے کہ انصاف کیلئے پر امن طریقے سے آواز اٹھائیں