ویڈیو:بنگلہ دیش میں کانسرٹ پر حملہ،20 زخمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)بنگلہ دیش میں ایک ہجوم نے سکول کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ معروف راک گلوکار جیمز کے کانسرٹ پر حملہ کر دیا۔
واقعے کے بعد کنسرٹ کو فوری طور پر منسوخ کرنا پڑا جبکہ کم از کم 20 افراد زخمی ہو گئے۔
یہ تقریب فرید پور ضلع سکول کی 185 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی جا رہی تھی۔
بنگلہ دیش کے معروف راک موسیقار جیمز، جنہیں نگر باؤل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس پروگرام میں پرفارم کرنے والے تھے۔
کانسرٹ دیکھنے کے لیے طلبہ، اساتذہ اور سابق طلبہ کی بڑی تعداد سکول کے احاطے میں جمع تھی۔
عینی شاہدین اور حکام کے مطابق جیمز رات ساڑھے نو بجے کے قریب سٹیج پر آنے والے تھے۔
اسی دوران کچھ باہر سے آنے والے افراد نے زبردستی اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
جب سکیورٹی عملے اور منتظمین نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو صورتحال کشیدہ ہو گئی اور حملہ آوروں نے سٹیج اور حاضرین کی جانب اینٹیں اور پتھر پھینکنا شروع کر دیے۔
اچانک ہونے والی اس ہنگامہ آرائی سے پنڈال میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زیادہ تر زخمی سکول کے وہ طلبہ تھے جو سٹیج کے قریب موجود تھے، کئی افراد کو سر اور جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئیں۔
Once again, a concert by Bangladesh’s leading band music artist James has been shut down.
— Sahidul Hasan Khokon (@SahidulKhokonbd) December 26, 2025
In Faridpur, just before the concert was set to begin, extremist groups stormed the stage and carried out an attack. Following intervention by law enforcement agencies, the organizers were… pic.twitter.com/NfmLRjL2OF
بعض طلبہ نے مزاحمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔
صورتحال بگڑنے پر ضلعی انتظامیہ نے مداخلت کی، رات تقریباً دس بجے پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر مصطفیٰ الرحمٰن شميم نے سٹیج سے اعلان کیا کہ قانون و امان کی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر کانسرٹ منسوخ کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی پنجاب میں سکھ خاتون نے مسجد کی تعمیر کیلئے زمین عطیہ کردی
اس دوران جیمز کو سکیورٹی حصار میں بحفاظت پنڈال سے باہر منتقل کر دیا گیا، جبکہ ان یا ان کے بینڈ کے کسی رکن کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
تقریب کی تشہیر اور میڈیا کمیٹی کے کنوینر رجیب الحسن خان نے بتایا کہ کانسرٹ کے تمام انتظامات مکمل تھے، مگر اچانک تشدد نے سب کو حیران کر دیا۔
ان کے مطابق 15 سے 25 کے درمیان طلبہ اینٹوں اور پتھروں کے لگنے سے زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس نے اور کس مقصد کے تحت کیا، تاہم مزید نقصان سے بچنے کے لیے پروگرام روکنا پڑا۔
مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آور موسیقی اور ثقافتی تقریبات کے انعقاد کے خلاف تھے اور ایسے پروگرام بند کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔