دہشتگردی سے نمٹنے کیلئےمشترکہ میکنزم قائم کرنے کی ضرورت ہے؛ڈاکٹر علی لاریجانی
ایران خطے میں امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان چاہے تو ایران کا تعاون استعمال کر سکتا ہے؛سیکرٹری ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس) ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں مزید تعاون کے خواہاں ہیں،انہوں نے تجویز پیش کی کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ میکنزم قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو مضبوط کیا جا سکے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر علی لاریجانی نے اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے برادرانہ اور دوستانہ دورے پر انہیں بے حد خوشی ہے، پریس کانفرنس میں پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔
ایرانی قومی سلامتی مشیر نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ جاری ہے اور دونوں ممالک انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں مزید تعاون کے خواہاں ہیں،انہوں نے تجویز پیش کی کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ میکنزم قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو مضبوط کیا جا سکے۔
ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ پاکستان اور ایران خطے کے دو بااعتماد ممالک ہیں اور دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں پائیدار امن چاہتے ہیں، انہوں نے تسلیم کیا کہ دونوں ملک بہت سی مشترکہ اقدار رکھتے ہیں اور ایک ہی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل کی 12 روزہ جارحیت کے دوران پاکستان نے جس ذمہ دارانہ سفارتی مؤقف کا اظہار کیا، وہ ایران کے لیے انتہائی معنی خیز ہے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایران کا برادر اور دوست ملک رہا ہے۔
ایرانی مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ایران نے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے واضح مؤقف پیش کیا ہے جو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بیان کیا تھا،اس کے مطابق فلسطینی عوام اپنے حقِ رائے دہی کے ذریعے اپنی حکومت تشکیل دیں، یہی پائیدار حل ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے غزہ میں انٹرنیشنل سیکیورٹی فورس تعینات کرنے کی تجویز مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گی،انہوں نے بتایا کہ اگرچہ امریکہ نے ایران پر حملے اور جارحیت کی ہے تاہم پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود پاکستان نے ایران کی بھرپور سیاسی اور سفارتی حمایت کی جسے ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ پاکستان–ایران گیس پائپ لائن معاہدہ چند برس قبل طے پایا تھا اور ایران نے اپنا حصہ مکمل کر لیا ہے اگر پائپ لائن فعال ہوتی تو پاکستان کے ہزاروں گھر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے،امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکال لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران سرحدی راہداری کے منصوبے کو بڑھانے پر بھی بات ہوئی ہے جسے بعد میں نارتھ–ساوتھ کوریڈور منصوبے سے بھی منسلک کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ اسلاموفوبیا کئی مغربی ممالک میں موجود ہے،ان کا کہنا تھا کہ داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی تشکیل میں مغربی قوتوں کا کردار رہا ہے اور ان گروہوں کو اکثر مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی حمایت حاصل رہی تاہم بعض دفعہ یہ گروہ انہی طاقتوں کے مفادات کے خلاف سرگرم ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے بتایا کہ آج ان کی پاکستانی عسکری اور حکومتی قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پاکستانی ہم منصبوں کو واضح کر چکا ہے کہ ایران خطے میں امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان چاہے تو ایران کا تعاون استعمال کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دورہ بحرین :وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ولی عہد سے ملاقات