بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی ترمیم مزید غور کے لیے وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ

May 26, 2025 | 19:07:PM
بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی ترمیم مزید غور کے لیے وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ
کیپشن: تصویر، فائل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)بشیر ورک کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کا اجلاس، بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی ترمیم مزید غور کے لیے وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ ہم گلیاں نالیاں بنانا نہیں چاہتے لیکن بنانا پڑتی ہیں کیونکہ بلدیاتی نظام نہیں ہے، اٹھارہویں ترمیم کا مقصد بہت اچھا تھا، بنیاد یہ تھی کہ اسلام آباد سے اختیار لے کر عوام کو دی جائے۔

علی محمد خان نے کہا کہ صوبوں نے اختیار بلدیات کو منتقل نہیں کیے، جب کوئٹہ کے دیہات میں کسی کا کام نہ ہو تو وہ بُرا بھلا اسلام آباد کو کہتا ہے، میرے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے تو فنڈ خرچ صرف وہیں ہوگا جہاں پی ٹی آئی چاہے گی۔

انھوں نے کہا کہ اس لیے ہمیں لوکل گورنمنٹ کا نظام مضبوط بنانا ہوگا، لوکل گورنمنٹس ہوں گی تو کوئٹہ اور کراچی کا امن واپس آئے گا، یہ نظام نوٹیفیکیشن سے نہیں بلکہ سیاسی طور پر نافذ ہوگا۔

کمیٹی چئیرمین بشیر ورک کی جانب سے بلوچستان میں بچوں کے قتل کی شدید مذمت کی گئی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایسے واقعات بہت بڑا ظلم ہے، ایسے واقعات بلوچستاں کے مستقبل کیلئے خطرناک ہیں۔

عالیہ کامران نے کہا کہ بلوچستان میں ہم آزادانہ سفر نہیں کر سکتے، بلوچستان میں پوری بس اغوا کر لی گئی جس کا کوئی پتا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سینئر سیاستدان سابق صوبائی وزیر اختر حسین رضوی انتقال کر گئے