تعلیمی ریکارڈ بحالی کیس میں لاہور ہائی کورٹ کابڑا فیصلہ 

Sep 25, 2026 | 09:44:AM
 تعلیمی ریکارڈ بحالی کیس میں لاہور ہائی کورٹ کابڑا فیصلہ 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائی کورٹ نے تعلیمی ریکارڈ بحالی کیس میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی درخواست پر بڑا فیصلہ جاری کردیا۔
​لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ کورٹ کا 27 مئی 2017 کا آرڈر کالعدم قرار دے دیا،​جسٹس مزمل اختر شبیر نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا،پانچ صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔
​لاہور ہائیکورٹ نے بورڈ کی اپیل کو سول نظر ثانی درخواست میں تبدیل کر کے منظور کر لیا،فیصلے کے مطابق درخواست بحالی کی درخواست کے لیے میعاد کا قانون 3 سال کی مہلت دیتا ہے ،درخواست کی بحالی پر آرٹیکل 168 کے بجائے آرٹیکل 181 کا اطلاق ہوتا ہے ۔
 فیصلے کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے درخواست خارج کی ،  122 دن کی تاخیر کو بنیاد بنا کر درخواست خارج کرنا قانون کے خلاف ہے ، دفعہ 151 سی پی سی کے تحت دائر کی جانے والی ایسی درخواستوں کے لیے 3 سال کا وقت مقرر ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے
​روزینہ مشتاق نے اسناد میں تاریخ پیدائش 1985 کے بجائے 1991 کروانے کا دعویٰ دائر کر رکھا تھا،ڈسٹرکٹ کورٹ نے عدم پیروی اور فیس عدم جمع کروانے پر تعلیمی بورڈ کی اپیل خارج کی تھی۔
 عدالت عالیہ نے لوئر کورٹ کو تمام فریقین کو سن کر میرٹ پر فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج معاملے کا جلد سے جلد قانونی تصفیہ کریں۔