ہواوے کا ایپل کے مقابلے میں نئی چپ متعارف کروانے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال خزاں کے موسم میں اپنے اسمارٹ فونز کے لیے نئی نسل کی چِپ متعارف کرائے گی، جس سے عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اینویڈیا اور ایپل کے ساتھ اس کی مسابقت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شنگھائی میں پیر کے روز منعقدہ ایک تقریب کے دوران ہواوے نے بتایا کہ کمپنی نے “لاجک فولڈنگ” نامی نئی انجینیئرنگ تکنیک تیار کی ہے، جس کے ذریعے جدید سیمی کنڈکٹرز بنائے جائیں گے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی برآمدی پابندیوں کی وجہ سے اینویڈیا کو چین میں اپنے جدید چِپس فروخت کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، جبکہ ایپل کو بھی چینی مارکیٹ میں ہواوے کی مضبوط ہوتی پوزیشن سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ ہواوے نے 2023 میں اپنے “میٹ 60” اسمارٹ فون میں جدید 5G چِپ متعارف کرا کے ایپل سے مارکیٹ شیئر دوبارہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی نئی چِپ ٹیکنالوجی 2031 تک 1.4 نینو میٹر کے مساوی کارکردگی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ دنیا کی بڑی چِپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی اس وقت 2 نینو میٹر چِپس کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر چکی ہے۔
تاہم ماہرین نے ہواوے کے دعووں پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق فولڈڈ یا تہہ دار ڈیزائن سے کارکردگی میں بہتری ممکن ہے، لیکن بڑے پیمانے پر پیداوار، حرارت کے اخراج اور توانائی کے استعمال جیسے مسائل اب بھی بڑے چیلنج ہیں۔
امریکی پابندیوں کے باعث جدید لیتھوگرافی مشینوں تک محدود رسائی کے بعد ہواوے متبادل طریقوں سے سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی کوشش کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ہواوے اپنی نئی چِپ ٹیکنالوجی کو کامیابی سے تجارتی سطح پر نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ چین کی ٹیکنالوجی خودمختاری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔