چاند پر نظریں: چینی خلابازوں کا خلا میں ڈیرہ

May 25, 2026 | 12:08:PM
چاند پر نظریں: چینی خلابازوں کا خلا میں ڈیرہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے تین خلا بازوں کو اپنے خلائی اسٹیشن ”تیانگونگ“ بھیج دیا ہے۔

اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک خلا باز ایک سال تک خلا میں قیام کرے گا، جو چین کی تاریخ کا سب سے طویل انسانی خلائی مشن ہوگا۔

اس اقدام کو چین کے 2030 تک انسان کو چاند پر اتارنے کے منصوبے کی تیاری کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق شین ژو-23 نامی خلائی جہاز اتوار کی رات شمال مغربی چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ-2 ایف راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا۔

 اس مشن میں کمانڈر ژو یانگ ژو، پائلٹ ژانگ یوآن ژی اور پے لوڈ اسپیشلسٹ لی جیا ینگ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:خلیجی بحران کے باوجود ملائیشیا کا توانائی پلان کامیاب

 لی جیا ینگ پہلے ہانگ کانگ پولیس افسر رہ چکے ہیں اور وہ کسی چینی خلائی مشن میں حصہ لینے والے ہانگ کانگ کے پہلے خلا باز بن گئے ہیں۔

 چینی خلائی ادارے کے مطابق تینوں میں سے ایک خلا باز ایک سال تک تیانگونگ خلائی اسٹیشن میں رہے گا۔

 تاہم یہ فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کہ طویل مدت تک خلا میں کون قیام کرے گا۔

اس مشن کا مقصد خلا میں انسانی جسم پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کا مطالعہ کرنا ہے، جن میں ہڈیوں کی کمزوری، تابکاری کے اثرات اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔