گلوکار جواد احمد اور بھگت سنگھ کا81سالہ بھانجا آمنے سامنے!

Mar 25, 2025 | 15:02:PM
گلوکار جواد احمد اور بھگت سنگھ کا81سالہ بھانجا آمنے سامنے!
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(سجاد اظہر پیرزادہ) بھگت سنگھ ایک ایسا نام ہے' جسے 23 مارچ 1931 کو لاہور میں اس کی پھانسی کے بعد سے 94 سال گزرنے کے باوجود اب تک نہیں بھلایا جاسکا ہے۔ پاکستان کے معروف گلوکار،سیاستدان جواد احمد نے اب ایک ایسے انداز میں بھگت سنگھ کے بارے میں گفتگو کی ہے، جو صرف انہی کا ہی خاصہ ہے، اور ان کی یہ گفتگو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ 

بھگت سنگھ کو انگریزوں نے اُس وقت پھانسی دیدی تھی' جب اُنہوں نے اپنے ملک مشترکہ ہندوستان اور یہاں کے لوگوں کی آزادی کے حق میں سڑک پر نکل کر سرفروشانہ انداز میں آواز اٹھائی تھی۔ اسی کے بارے میں جواد احمد نے اپنے ویڈیو پیغام میں گفتگو کی ہے۔ آپ 24 نیوز پر جواد احمد کا اور بھگت سنگھ کے بھانجے جگموہن سنگھ کا ایک اچھوتا،دلچسپ و خصوصی انٹرویو بھی دیکھ سکتے ہیں، جس کا لنک یہاں شیئر کیا گیا ہے۔ اس دلچسپ انٹرویو میں آپ بھگت سنگھ کے بھانجے اور گلوکار جواد احمد کی زبانی بہتر اندازمیں جان سکتے ہیں کہ بھگت سنگھ کون ہے؟ 

لاہور کے لوگ آج بھی بھگت سنگھ کو نہیں بھولے۔ 23 مارچ کو لاہور میں ان کی یاد میں حق پرست شہریوں کی جانب سے اُس جگہ شمعیں روشن کی گئیں جہاں انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ 24 مارچ کو شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی بھگت سنگھ کی یاد منائی۔ ایک مدت سے شادمان چوک کو بھگت سنگھ سے منسوب کرنے کی اپیل بھی کی جارہی ہے۔ گلوکار جواد احمد جو پاکستان کے حق پرست اور دبنگ سیاستدان کے طور پر بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھگت سنگھ پاکستان کی اسی دھرتی پر پیدا ہوا،اسی زمین کی آزادی کےلیےلڑا،اور اسی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔حکومت کوبھگت سنگھ کی یادسرکاری طور پر منانی چاہیے۔