ایران امریکا مذاکرات کی اطلاعات، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں
ٹریڈنگ کے آغاز پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہوا مگر اب برینٹ 104.80 ڈالر فی بیرل تک گر گیا جبکہ WTI کم ہو کر 93.88 ڈالر فی بیرل آ گیا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز ) ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔
ٹریڈنگ کے آغاز پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہوا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے گرد تناؤ کے سبب برینٹ کروڈ 107.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 97.40 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا تاہم اس وقت صورتحال تبدیل ہو گئی جب اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے پاکستان آئے گا اور امریکا کے 2 رکنی وفد کی بھی سفارتی بات چیت کے لیے آمد متوقع ہے۔
اس مثبت پیشرفت کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ، برینٹ 104.80 ڈالر فی بیرل تک گر گیا جبکہ WTI کم ہو کر 93.88 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جو اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کے ذریعے فوری سپلائی میں خلل کے خدشات میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کمی کے باوجود برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی تاہم اتار چڑھاؤ کم ہو کر یومیہ 3 سے 6 ڈالر کے درمیان محدود ہو گیا جو نسبتاً مستحکم صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تیل کی قیمت میں74 روپے کمی کر دی گئی
ماہرین کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کمی سے آبنائے ہرمز میں ممکنہ تصادم کے خدشات کم ہوئے ہیں، جو دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ قیمتیں اب بھی کسی بھی نئی جغرافیائی پیش رفت پر حساس رہیں گی کیونکہ مارکیٹ پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور سپلائی کے خدشات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
برطانیہ میں FTSE 100 میں تقریباً 0.4 فیصد سے 0.8 فیصد تک اضافہ ہوا جسے عمومی مارکیٹ رجحان اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے سہارا ملا اگرچہ توانائی کے شعبے کی کمزوری نے کچھ حد تک اضافہ محدود رکھا۔