خلیج بنگال میں نئے طوفان کے آثار! بنگلہ دیش اور بھارت خطرے میں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(سلیم رضا) بین الاقوامی موسمیاتی اداروں نے خلیج بنگال میں نئے طوفان کی تشکیل سے خبردار کردیا، آبنائے ملاکا اور ملحقہ علاقوں میں بننے والا کم دباؤ کا علاقہ مغرب،شمال مغرب کی طرف بڑھ سکتا ہے اور اگلے تین دنوں میں توانائی جمع کر سکتا ہے۔
سازگار حالات میں یہ جنوب مشرقی خلیج بنگال اور جنوبی انڈمان سمندر میں داخل ہو کر ڈپریشن میں تبدیل ہونے کا امکان ہے،بنگلہ دیش ویدر آبزرویشن ٹیم (BWOT)، بنگلہ دیش میں موسم کے مشاہدے پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
پیشن گوئی کے مطابق یہ طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور 27 نومبر تک گہرے ڈپریشن میں تبدیل ہو سکتا ہے اور بعد میں بڑے طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے پھر، 29 نومبر تک یہ مزید شمال مغرب کی طرف بڑھ سکتا ہے اور وسطی اور مغربی وسطی خلیج بنگال تک پہنچ سکتا ہے اور پھر ایک مضبوط طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق اگر حالات سازگار رہے تو سمندری طوفان رخ بدل کر شمال اور شمال مشرق کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ طوفان 2 دسمبر تک شمالی آندھرا پردیش، بھارت اور بنگلہ دیش کے ساحل کے درمیان کسی علاقے سے ٹکرا سکتا ہے۔
تاہم مکمل طور پر بننے سے پہلے اس کے اثرات کے صحیح مقام کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے، مزید چند دنوں کے مشاہدے کے بعد ایک قطعی خیال سامنے آئے گا۔بی ڈبلیو او ٹی کا کہنا ہے کہ ممکنہ طوفان کے اثرات کی وجہ سے بنگلہ دیش میں بارش کا علاقہ فعال ہو سکتا ہے، جو یکم دسمبر سے شروع ہو کر دو سے تین دن تک جاری رہ سکتا ہے۔
ابتدائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش کے رنگ پور اور راجشاہی ڈویژن کے مقابلے بنگلہ دیش کے دیگر حصوں میں بارش کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے۔