پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس میں 500 کمپنیوں کی شرکت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) ہانگژو میں پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس میں دونوں ممالک کی 500 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی۔
ہانگژو میں پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس برائے آئی ٹی، ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج اور زراعت میں دونوں ممالک کی 500 سے زائد کمپنیوں کی شرکت سے کاروباری روابط کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت اقتصادی اصلاحات اور ترقیاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چار برسوں میں معاشی استحکام حاصل کیا ہے اور اب معیشت کی سمت واضح طور پر ترقی کی جانب ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے، اصلاحات جاری ہیں اور ملک ترقی کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے اقتصادی سفارت کاری کو اپنی پالیسی کا مرکز بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بی ٹو بی روابط اقتصادی سفارت کاری کی بہترین مثال ہیں۔ اب تک دونوں ممالک کے درمیان بی ٹو بی 5 کانفرنس ہو چکی ہیں جس میں 300 سے زائد مفاہمتی یادداشتیں، درجنوں مشترکہ منصوبے ہوئے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاک چین اقتصادی تعاون کی مجموعی مالیت 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایم او یوز سے معاہدوں اور کنٹریکٹس میں تقریباً 30 فیصد کامیاب کنورژن حاصل ہوا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی بی آئی نے پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی منصوبوں کا آغاز کیا ہے اور 8 ماہ میں اسلام آباد میں دفتر قائم کر کے آپریشنز شروع کیے، آئی بی آئی کے دورہ پاکستان میں ایک ارب ڈالر سے زائد کے ایم او یوز پر دستخط ہوئے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سروسز گروپ اور لانگ مارچ ٹائرز کا مشترکہ منصوبہ ایک ارب ڈالر کمپنی بننے جا رہا ہے۔ یہ کمپنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہونے کے قریب ہے۔ پاکستانی مشنز اقتصادی روابط اور عملی نتائج کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کے 75 سالہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ پاک چین دوستی نے ہر آزمائش اور عالمی تبدیلی کا مقابلہ کیا ہے۔