جنگ کے بعد  ایران کےساتھ اعتماد کی بحالی میں برسوں لگیں گے؛ متحدہ عرب امارات

ایران کے متحدہ عرب امارات پر 89 فیصد حملے شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانے کے لیے تھے

Apr 24, 2026 | 20:53:PM
جنگ کے بعد  ایران کےساتھ اعتماد کی بحالی میں برسوں لگیں گے؛ متحدہ عرب امارات
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)  متحدہ عرب امارات نےجنگ ختم ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات کے  ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی کو ایک طویل اور مشکل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعتماد بحال ہونے میں برسوں لگیں گے۔

 متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں ایران کے ساتھ اعتماد  کا فقدان تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

 امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے فرانس میں "ورلڈ پالیسی کانفرنس"  میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگ میں ایرانی کے متحدہ عرب امارات پر متعدد حملوں کے باعث اب متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال ہونے میں برسوں لگ جائیں گے۔ 

ایران نے  89 فیصد حملے سویلین انفراسٹرکچر اور توانائی کی تنصیبات پر کئے

 انور قرقاش نے کہا کہ آپ کسی ملک پر 2,800 میزائل اور ڈرونز سے حملے کریں اور پھر اعتماد کی بات کریں تو ایسا ممکن نہیں۔ اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ چٹکی بجاتے بحال نہیں ہوگا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے متحدہ عرب امارات پر 89 فیصد حملے شہریوں، سویلین انفراسٹرکچر اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانے کے لیے تھے۔

 انور قرقاش نے مزید کہا کہ ایران ان حملوں سے خلیجی عرب ممالک کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ آپ ہماری  کتاب میں اہم نہیں ہیں اور اس سوچ کے اثرات طویل عرصے تک رہیں گے۔

 انھوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے لیے ایران کو ایک سٹریٹجک خطرہ سمجھا جائے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری سے  ہی  ایران نے متحدہ عرب امارات میں سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کئے جن سے سویلین ائیرپورٹوں، رہائشی عمارات، کاروباری مراکز، تیل کی تنصیبات کے ساتھ شہریوں کے لئے سمندری پانی سٓف کرنے کے پلانٹ بھی نشانہ رہے۔

یہ بھی پڑھیئے: ایران امریکہ مذاکرات؛ اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی 

ایران کے حملوں کو  متحدہ عرب امارات نے اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے منافی قرار دیتے ہوئے ان حملوں کی سخت  مذمت کی لیکن ایران کے خلاف کوئی عملی جوابی کارروائی کبھی نہیں کی۔ ایسے ہی تمام خلیجی ممالک نے بھی مشترکہ طور پر مذمت ہی  کی تھی لیکن ایران کے حملوں کا نشانہ بننے والے کسی عرب ملک نے ایران کو کوئی عملی جواب نہیں دیا۔ ان حملوں کا نشانہ بننے والے ملکوں نے ایرانی اقدامات کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔ 

تاہم ایران کا مؤقف تھا کہ پڑوسی برادر ممالک امریکا کو اپنی سرزمین ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ہمسائیہ ممالک میں صرف امریکی اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ کے دوران پینٹاگون کی انتہائی اہم خفیہ ای میل لیک ہو کر عوام کے سامنے آ گئی