بجلی بلوں سے پریشان صارفین کیلئے خوشخبری، پاکستان میں سولر پینل تیارہونگے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں سولر پینلز کے استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے جس کے باعث اب پاکستان میں سولر پینل تیار ہونگے ۔
بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ، لوڈشیڈنگ اور مہنگے بلوں نے گھریلو اور تجارتی صارفین دونوں کو متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف راغب کیا ہے۔
کئی شہروں میں چھتوں پر سولر پینلز عام نظر آتے ہیں مگر اس تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ چند اہم سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کیا صارفین کو وہی نرخ مل رہے ہیں جو حکومت کے بجٹ میں طے کیے گئے ہیں؟ اور کیا پاکستان میں اب بھی صرف درآمد شدہ سولر پینلز پر انحصار کیا جا رہا ہے یا مقامی سطح پر تیاری کی سمت واقعی پیشرفت ہوئی ہے؟
ایک انرجی ایکسپرٹ انجینئر کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں مقامی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ شروع ہو رہی ہے جیسا کہ پاکستانی کمپنی نیٹ لائن نے ترک کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں اسلام آباد کے مضافات میں تقریباً 180 میگاواٹ کی سالانہ صلاحیت کے سولر پینل بنانے والی فیکٹری کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کی لاگت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے۔
مزید پڑھیں:دنیاکے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور آج بھی پہلے نمبر پر
انہوں نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ تین مراحل میں مکمل ہو رہا ہے جو سنہ 2025 میں جاری ہے اور سال 2026 تک فعال ہونے کی توقع ہے جس سے ’میڈ ان پاکستان سولر پینلز‘ کی تیاری ممکن ہوگی اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔
اسی طرح، پنجاب حکومت نے اگست 2024 میں چینی کمپنی AIKO (ایک لیڈنگ کلین انرجی ٹیکنالوجی فرم) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت صوبے میں ایک بڑا اسمبلی اور مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم ہوگا۔