پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، حکومتی و اپوزیشن ارکان آمنے سامنے آ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ابوبکر شیخ) پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک بار پھر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید گرماگرمی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن اسمبلی بشارت ڈوگر کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے انتخابی نتائج سے متعلق بیان پر ایوان میں تنازع کھڑا ہوگیا۔ بشارت ڈوگر نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے ارکان حلف دے دیں کہ نواز شریف، یاسمین راشد کے مقابلے میں انتخاب جیت کر آئے ہیں تو وہ اپنی اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیں گے۔
بیان کے بعد اپوزیشن ارکان بشارت ڈوگر، صادق، خالد نثار ڈوگر، ندیم صادق ڈوگر اور خیال کاسترو جبکہ حکومتی رکن عارف محمود گل اپنی نشستوں سے اٹھ کر ڈائس کے سامنے آ گئے، جس سے ایوان میں کشیدگی بڑھ گئی۔
صورتحال اس وقت مزید گرم ہوگئی جب گیلری میں موجود حکومتی اور اپوزیشن ارکان بھی ایوان میں پہنچ گئے۔ اس دوران چیف وہپ رانا محمد ارشد اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔
صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ نواز شریف درست طریقے سے الیکشن نہیں جیتے، جبکہ وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر مریم نواز فارم 45 کی بنیاد پر منتخب ثابت ہو جائیں تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ماحول کو پرامن رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔
دوسری جانب حکومتی رکن قدسیہ بتول نے کہا کہ ایوان میں موجود حکومتی ارکان حلف دینے کے لیے تیار ہیں اور اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعووں کے مطابق استعفے دیں تاہم ڈپٹی اسپیکر بار بار انہیں بجٹ پر گفتگو تک محدود رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔
ہنگامہ آرائی کے باوجود اجلاس کی کارروائی جاری رہی، جبکہ ڈپٹی اسپیکر نے دونوں جانب کے ارکان پر تحمل اور پارلیمانی روایات کے مطابق رویہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات