چین نے دنیا کا طاقتور ترین ’’سپر کمپیوٹر‘‘ بنانے کا اعزاز امریکہ سے چھین لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز )چین نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے امریکا سے دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز چھین لیا ہے، چین کے نئے سپر کمپیوٹر ’’لائن شائن‘‘ نے عالمی درجہ بندی ’’ٹاپ 500‘‘ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
اس کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ لائن شائن کو مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ چپس، سافٹ ویئر اور نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل چین نے 2017 میں بھی دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹر کا اعزاز حاصل کیا تھا، تاہم اس وقت مشین میں بعض غیر ملکی پرزہ جات استعمال کیے گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق امریکی پابندیوں کے باوجود چین نے مقامی سطح پر جدید چپس اور سافٹ ویئر تیار کرکے اپنی تکنیکی خود کفالت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ چین اس منصوبے کو ایک قومی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ امریکی ہارڈ ویئر کے بغیر بھی جدید ترین کمپیوٹنگ نظام تیار کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لائن شائن کو مقامی ٹیکنالوجی کمپنی Huawei کی چپس، مقامی نیٹ ورکنگ آلات اور سافٹ ویئر کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
سپر کمپیوٹرز عام کمپیوٹرز سے مختلف ہوتے ہیں اور ہزاروں باہم منسلک پروسیسرز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ انہیں انتہائی پیچیدہ حسابی عمل، سائنسی تحقیق، موسمیاتی پیش گوئی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اس سے قبل امریکی سپر کمپیوٹر El Capitan دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر تصور کیا جاتا تھا اور اس نے تقریباً 18 ماہ تک یہ اعزاز برقرار رکھا۔
عالمی درجہ بندی میں سپر کمپیوٹرز کی کارکردگی کا جائزہ "ایگزا فلاپس" (Exaflops) کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ چینی سپر کمپیوٹر کی کمپیوٹنگ صلاحیت 2.2 ایگزا فلاپس فی سیکنڈ بتائی گئی ہے، جبکہ امریکی مشین 1.8 ایگزا فلاپس فی سیکنڈ کی رفتار رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ لائن شائن میں استعمال ہونے والی چپس امریکی حریف مشینوں کی چپس جتنی جدید نہیں، تاہم ان کی مؤثر ترتیب اور ڈیزائن نے مجموعی کارکردگی کو بہتر بنایا ہے۔ البتہ اس اعلیٰ کارکردگی کی قیمت زیادہ توانائی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لائن شائن 42 میگا واٹ بجلی استعمال کرتا ہے، جو امریکی سپر کمپیوٹر کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات