توانائی کا بحران یا نظام کی ناکامی؟ — پاکستان میں بجلی کی حقیقت"
تحریر: اشفاق حنیف
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستان میں توانائی کا بحران ایک پیچیدہ مگر مصنوعی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ملک میں بجلی کی قلت ہے، لیکن اعداد و شمار اس کے برعکس حقیقت بیان کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے تو یہ 40 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے۔ دوسری طرف، سال کے گرم ترین مہینوں یعنی جون، جولائی اور اگست میں بھی ملک کی زیادہ سے زیادہ طلب 28 سے 30 ہزار میگاواٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ واضح فرق ظاہر کرتا ہے کہ پیداوار طلب سے زیادہ ہے، لہٰذا بحران تکنیکی یا انتظامی نوعیت کا ہے، نہ کہ پیداواری۔
مسئلے کی جڑ ہمارے پرانے، بوسیدہ اور ناکارہ ترسیلی نظام میں چھپی ہے۔ موجودہ ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ سسٹم صرف 22 سے 23 ہزار میگاواٹ بجلی ہی منتقل کر سکتے ہیں۔ جب طلب اس حد سے بڑھتی ہے، تو نظام ٹرپنگ کا شکار ہو جاتا ہے اور بجلی کی فراہمی معطل ہو جاتی ہے۔ ہلکی بارش، آندھی یا موسمی اتار چڑھاؤ بھی بجلی کی ترسیل کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ لازم ہو جاتی ہے، باوجود اس کے کہ بجلی پیدا کرنے والے کارخانے فعال ہوں اور پیداوار موجود ہو۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں پن بجلی کے مواقع وافر ہیں لیکن ان سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ملک میں صرف 9 سے 10 ہزار میگاواٹ بجلی ہائیڈرو پاور سے حاصل کی جا رہی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق ہمارے دریا، خاص طور پر انڈس بیسن، کم از کم 65 سے 70 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے، تربیلا، منگلا، غازی بروتھا اور نیلم جہلم جیسے بڑے ڈیمز کئی دہائیوں پرانے ہو چکے ہیں اور ان کے بعد کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں کی گئی۔
تاہم حالیہ برسوں میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے۔ داسو، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے بڑے منصوبے زیر تعمیر ہیں، جن کی تکمیل سے اگلے تین سے چار سال میں پاکستان کو مزید 9 ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو سکے گی۔ اس سے نہ صرف ہماری ہائیڈرو پاور کی مجموعی پیداوار دگنی ہو جائے گی بلکہ سستی بجلی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
دوسری طرف، پاکستان بجلی کی چوری اور لائن لاسز کے معاملے میں دنیا کے بدترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر 23 سے 25 فیصد بجلی یا تو چوری ہو جاتی ہے یا پرانے ٹرانسمیشن سسٹم کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق جہاں ٹرانسمیشن لاسز 4 سے 5 فیصد تک ہوتے ہیں، پاکستان میں یہ 8 سے 10 فیصد تک جا پہنچے ہیں۔ یہی صورت حال ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے بھی ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم کریں کہ 40 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے تو کم از کم 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ یعنی صارفین تک پہنچنے والی بجلی صرف 30 ہزار میگاواٹ کے آس پاس ہوتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے مہنگا اور نقصان دہ ذریعہ تھرمل انرجی ہے، جس پر پاکستان کا انحصار اب بھی 50 فیصد سے زائد ہے۔ ڈیزل، کوئلہ اور دیگر فوسل فیولز سے بجلی بنانا نہ صرف ماحول کے لیے خطرناک ہے بلکہ معاشی طور پر بھی ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں نیوکلیئر، ہائیڈرو، سولر اور ونڈ انرجی سستی، پائیدار اور ماحول دوست ہیں۔ اس وقت ملک میں نیوکلیئر پاور سے 7 ہزار میگاواٹ، ونڈ سے 3 سے 4 ہزار اور سولر سے بھی تقریباً اتنی ہی مقدار میں بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ ان ذرائع کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، خصوصاً نیوکلیئر انرجی جو اب سستی اور قابلِ اعتماد ہو چکی ہے۔
اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، تو بجلی کا بحران نہ صرف ختم ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان بجلی کی پیداوار میں خود کفیل اور شاید برآمد کنندہ بھی بن سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، بجلی چوری کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں، اور تھرمل انرجی پر انحصار کم کر کے قابلِ تجدید ذرائع پر سرمایہ کاری کی جائے۔ پاکستان کے دریا، پہاڑ، ہوائیں اور سورج سب کچھ مہیا کر رہے ہیں، صرف فیصلہ سازی اور عملدرآمد کی کمی ہے۔
اشفاق حنیف نے 1987 میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1988 سے 1999 تک واپڈا میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر خدمات سر انجام دیں،اور بےشمار پروجیکٹس کر کام کیا جن میں مہمند ڈیم سرفہرست ہے اسکے علاوہ داسو ڈیم،کالا باغ ڈیم،کالام ریور ڈیم پروجیکٹ، گومل ڈیم سمیت دیگر ڈیمز کی فیزیبیلٹی رپورٹس پر بھر پور کام کیا،بعد ازاں سعودی الیکٹریکل کمپنی میں 26 سال سے بطور پروجیکٹ مینجر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔