اسحاق ڈار 13 سال بعد بنگلہ دیش کے پہلے سرکاری دورے پر ڈھاکا پہنچ گئے ،بھارت کو بھی مذاکرات کی پیشکش
Stay tuned with 24 News HD Android App
( سلیم رضا)نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکا پہنچ گئے، یہ کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کی جانب سے بنگلہ دیش کا 13 برسوں بعد پہلا سرکاری دورہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہفتہ کو دو روزہ دورے پر ڈھاکہ پہنچے، اسلام آباد اس دوطرفہ دورے کے دوران تعلقات کی بحالی کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر قربتیں بڑھانے کو اہمیت دے رہا ہے، دورے کے دوران چھ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (MOU) پر دستخط کیے جانے کی امید ہے۔
اگرچہ اسحاق ڈار نے 27 اپریل کو ڈھاکہ کا دورہ کرنا تھا، تاہم ان کا دورہ بھارت کے شہر پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے باعث سرحدی کشیدگی کے تناظر میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے حکام نے 24 نیوز کے بنگلہ دیش کے نمائندے کو بتایا کہ دورے کے دوسرے دن اتوار کو پاکستانی وزیر خارجہ کی اہم ملاقات بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے خارجہ امور کے مشیر محمد توحید حسین سے ہو گی، اس روز دونوں وزراء پہلے نجی اور بعد میں وفود کی سطح پر ملاقات کریں گے، ملاقات کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان چھ معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط متوقع ہیں۔

باوثوق ذرائع کے مطابق توحید دار ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں، بنگلہ دیش اور پاکستان کے عوام کی مختلف سطحوں پر نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے سمیت مختلف دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، خارجہ سیکرٹریوں کی میٹنگ کے تسلسل میں بنگلہ دیش تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے وزرائے خارجہ کی سطح کے مذاکرات میں باہمی احترام، افہام و تفہیم اور مشترکہ مفادات پر زور دے گا، تاہم حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطح کے رابطوں کو اس مقام تک لے جانے کے لیے ضروری ہے کہ حل طلب مسائل کو حل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:پولیو کے خاتمے کیلئے وزیراعظم متحرک، اہم اجلاس طلب
حل نہ ہونے والے مسائل میں 1971 کی نسل کشی کے لیے پاکستان کی رسمی معافی، پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی اور غیر منقسم دولت میں بنگلہ دیش کا منصفانہ حصہ شامل ہیں۔
اتوار کی سہ پہر، اسحاق ڈار ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے بشکریہ ملاقات کریں گے۔
اپنے دورہ ڈھاکہ کے دوران اسحاق ڈار بنگلہ دیش کے سیاسی رہنماؤں سے تبادلہ خیال کریں گے، اس کے ایک حصے کے طور پر، ڈار بنگلہ دیش کی مرکزی سیاسی جماعت، بی این پی کی چیئرپرسن خالدہ ضیا سے ڈھاکہ میں ان کی گلشن رہائش گاہ پر ملاقات کریں گے، ڈار بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔

بنگلہ دیشی وزیر خارجہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے چار مرتبہ پاکستانی وزیر خارجہ سے ملاقات کر چکے ہیں، گزشتہ ماہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے سربراہ کی حیثیت سے ڈھاکہ کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان اس وقت چار روزہ دورے پر ڈھاکہ میں ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2026 فیفا ورلڈ کپ ڈرا کی میزبانی کا اعلان کردیا
دورہ پر روانگی کے موقع پر نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ نے سینئرصحافیوں سےغیر رسمی گفتگو کرتےہوئےکہابھارت کےساتھ کسی ایک نکاتی ایجنڈے پر نہیں بلکہ مسئلہ کشمیرسمیت تمام متنازعہ امورپربات ہوگی۔
اسحاق ڈار نےمزیدکہاجنگ بندی کیلئے امریکا سےدرخواست بھارت نےکی تھی،امریکا سے ہمیں فون آیا،تو انہیں بتایا،ہم توجنگ چاہتےہی نہیں تھے،جنگ بندی پرعمل جاری ہےجبکہ بلاوجہ بیان بازی جاری بھارت کا وطیرہ ہے۔
دورہ بنگلا دیش کامقصد دونوں برادرملکوں کومزید قریب لانا ہے، 25اگست کو اوآئی سی وزرائےخارجہ کی جدہ ہنگامی اجلاس میں شرکت ہوگی،وزیراعظم کے ہمراہ 30 اگست کوایس سی اوکانفرنس کیلئےچین جانا ہے۔
یاد رہے کہ بنگلا دیش نے 1971 کے بعد پہلی بار پاکستانی حکام کے لیے ویزا کی شرط ختم کردی ہے، یہ معاہدہ 5 سال کے لیے نافذ العمل ہو گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلا دیش اور پاکستان کے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو اب دونوں ملکوں کے درمیان سفر کرنے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی۔
نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے باہمی ویزا استثنیٰ کے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
محمد یونس کے پریس سیکرٹری شفیق الاسلام نے ڈھاکا میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ بنگلا دیش کے 31 دیگر ممالک کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے معاہدے موجود ہیں، اس معاہدے کے تحت پاکستانی حکام کو بھی بنگلا دیش میں ویزا کے بغیر داخلے کی اجازت ہو گی۔