اداروں کی نجکاری اور عوام کو نوکریاں فراہم کرنا حکومت کیلئے چیلنج ہے ،خرم دستگیر

وفاقی حکومت اگر سہیل آفریدی کے ساتھ رویہ درست کر لے تو معاملات بہتر ہوجائینگے،شوکت یوسفزئی

Oct 22, 2025 | 21:20:PM
اداروں کی نجکاری اور عوام کو نوکریاں فراہم کرنا حکومت کیلئے چیلنج ہے ،خرم دستگیر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہاہے کہ پوری دنیا میں کسی کو شک نہیں ہے  کہ پاکستان اور پاکستان کی معیشت  مستحکم ہوئی ہے،سیلاب آنے سے پہلے تک مہنگائی کا بھی خاتمہ ہو چکا تھا  ۔اب حکومت اس پر کام  کر رہی ہے کہ بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جو رک گئی ہیں انہیں کیسے نیچے لے کر آنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ حکومت کیلئے اداروں کی نجکاری کرنا اور عوام کو نوکریاں فراہم کرنا حکومت کیلئے چیلنج ہے ، وفاق اور صوبوں کو مل کر چلنا ہے تاکہ معیشت بہتر ہو اور عوام کا بھروسہ قائم ہو ۔

24نیوز کے پروگرام گونج میں مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہاکہ پاکستان کی زراعت بھی پچھلے سال بہت اچھی رہی ہے لیکن اب صوبوں کو جدید سسٹم کی طرف جانا ہوگا کم پانی کے استعمال سے زیادہ فصل کے حصول پر توجہ دینی ہوگی،خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بات کی جاتی ہے جو بالکل غلط ہے ملک میں سیاسی استحکام موجود ہے لیکن اپوزیشن اگر اپوزیشن کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی استحکام نہیں ۔اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ اپنا نقطہ نظر پیش کرے  لیکن پرتشدد راستہ اپنانا بالکل قابل قبول نہیں ہے ،مسلم لیگ ن نے کبھی اپنے احتجاج میں شہیدوں کی یاد گاروں کو نہیں جلایا۔

پروگرام میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ترجمان کو کسی نے ورغلایا ہوا ہے  جو وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے تناؤ بڑھ رہا ہے ،خیبر پختونخوا کے نئے وزیر اعلی ٰ سہیل خان آفریدی جوان آدمی ہیں وفاق کو چاہے کہ ان سے تعاون کرے تاکہ معاملات بہتر ہوسکیں اور تناؤ میں کمی آئے،وفاقی حکومت صوبائی حکومت پر اپنے فیصلے مسلط کر رہی ہے ہے پہلے چیزیں طے ہوجاتی ہیں پھر بعد میں بتا دیا جاتاہے کوئی بات چیت نہیں کی جاتی۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا مینڈیٹ ہے تو بات بھی ہماری چلنی چاہیے وفاقی حکومت اگر سہیل آفریدی کے ساتھ رویہ درست کر لے تو معاملات بہتر ہوجائینگے۔انہوں نے کہا کہ نئے وزیر اعلیٰ کو عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جب تک وہ بانی تحریک انصاف سے ملیں گے نہیں اپنی کابینہ کیسے فائنل کریں گے ،جب نواز شریف بھی جیل میں تھے تو ان کی پارٹی بھی ان سے مل  کرپارٹی کے معاملات چلانے کیلئے ان سے مشورے لیتی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ اگر آپریشن کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن مقامی لوگوں سے بات کریں کیونکہ مقامی لوگوں کے تعاون کے بغیر آپریشن کے نتائج نہیں نکلیں گے۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: