بلوچستان میں عیدالفطر کی روایات،ثقافتی رنگوں سے سجے دستر خوان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)عیدالفطر کو پاکستان میں عام طور پر میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر گھروں میں مختلف اقسام کے میٹھے پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع انہی لذیذ ڈشز سے کی جاتی ہے۔ ہر علاقے اور ثقافت کے لوگ اپنے اپنے روایتی کھانوں کے ذریعے عید کے دسترخوان کو خاص رنگ دیتے ہیں۔
روایتوں اور مہمان نوازی کے حوالے سے بلوچستان کا شمار پاکستان کے نمایاں صوبوں میں ہوتا ہے، یہاں بسنے والے مختلف قبائل، جن میں پشتون، بلوچ، ہزارہ اور دیگر زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، عیدالفطر کے موقع پر اپنی روایات کے مطابق خوشیوں کو بھرپور انداز میں مناتے ہیں۔
عیدالفطر کے موقع پر بلوچستان میں مہمان نوازی کی روایت خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے۔ گھروں اور بیٹھکوں میں دسترخوان بچھائے جاتے ہیں جن پر بیکری کی مختلف اشیا کے ساتھ میٹھے پکوان ہر وقت موجود رہتے ہیں،دوست احباب، رشتہ دار اور محلے دار ایک دوسرے کے گھروں کا رخ کرتے ہیں اور عید کی خوشیوں کو مل بانٹ کر مناتے ہیں۔
مزید پڑھیں:عیدالفطر کا آج دوسرا روز،کل کے میزبان آج مہمان بننے کیلئے تیار
دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی علاقوں میں یہ دسترخوان 3 سے 4 دن تک مسلسل بچھے رہتے ہیں،گھریلو دعوتوں میں روایتی کھانوں کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے، پشتون علاقوں میں روش اور کابلی پلاؤ عید کے دسترخوان کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں، جبکہ بلوچ گھروں میں سجی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
یہ روایتی پکوان نہ صرف مہمانوں کی تواضع کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ بلوچستان کی ثقافتی پہچان بھی سمجھے جاتے ہیں، یوں عیدالفطر کے موقع پر بلوچستان میں مذہبی عقیدت، ثقافتی رنگ، مہمان نوازی اور روایتی پکوان مل کر خوشیوں کی ایک ایسی فضا قائم کرتے ہیں جو کئی دنوں تک برقرار رہتی ہے اور لوگوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کو مزید مضبوط بناتی ہے۔