قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس میں حکومتی اراکین اور اپوزیشن لیڈر کے مابین شدید تلخ کلامی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بجٹ پر اعدادوشمار مانگنے کی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔
تفصیلات کے مطابق قائم مقام چیئرمین جاوید حنیف کی صدارت میں اجلاس ہوا جہاں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
اجلاس کے دوران بجٹ پر اعداد و شمار مانگنے پر بحث شدت اختیار کر گئی، جاوید حنیف نے عمر ایوب کو مخاطب کرتےہوئے کہا کہ میں آپ کو یہاں اس طرح بولنے کی اجازت نہیں دے سکتا جس پر عمر ایوب نے جواب دیا، میرا لہجہ بالکل نارمل ہے، آپ قائم مقام چیئرمین ہیں۔
بلال اظہر کیانی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا آپ معیشت کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے، آپ آر ٹی ایس والے ہیں جس پر عمر ایوب نے سخت جواب دیتے ہوئے کہا آپ فارم 47 والے ہیں۔
حالات کی سنگینی کے باعث اجلاس میں 10 منٹ کا وقفہ کر دیا گیا، وقفے کے بعد جب سید نوید قمر اجلاس میں پہنچے تو کارروائی دوبارہ شروع ہوئی۔
عالمی حالات پر بات کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا ہے جس کے خطے پر بڑے منفی اثرات مرتب ہوں گے، انہوں نے کہا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر پر بحران آ سکتا ہے اور حکومت کو بجٹ پر پڑنے والے عالمی اثرات سے آگاہ کرنا چاہیے۔
اس پر چیئرمین جاوید حنیف نے کہا عالمی حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں،حکومت حالات کو دیکھ کر فیصلے کرے گی،سپلیمنٹری بجٹ بھی آ سکتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔
وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اوگرا کے مطابق ملک میں تیل کے ذخائر پورے ہیں اور پٹرولیم ڈویژن صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے،ای کامرس پر ٹیکس سے متعلق گفتگو میں ایف بی آر اور وزیر خزانہ کے بیانات میں بھی وضاحت کی گئی۔ ایف بی آر نے بتایا کہ ای کامرس پر آمدن کی شرح 50 لاکھ روپے سے زائد ہونے پر تھریش ہولڈ مقرر کیا گیا ہے، نوید قمر نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اس پر ایف بی آر کو اعتراض ہے جس پر چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا جی نہیں، جو کہا گیا ہے وہ ٹھیک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف نہر پرنہانے کیلئے پہنچ گئے،مینگوپارٹی کے بھی مزے لئے