پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے:فضل الرحمان

Jan 22, 2026 | 14:26:PM
 پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے:فضل الرحمان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے صدر ٹرمپ کے تشکیل کردہ بورڈ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں فلسطینی تو شامل نہیں کیے گئے ہیں مگر نیتن یاہو شامل ہے، یہ کیسا امن بورڈ ہے جس میں فساد کی جڑ نیتن یاہو کو شامل کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو حماس اور فلسطینیوں کے مؤقف کو دیکھنا چاہیے، اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا عراق، افغانستان اور لیبیا میں امن ہی کے نام پر آیا تھا، اور پھر ان ممالک کو کھنڈرات بنا دیا، غزہ کو بھی ویسے ہی کھنڈر بنا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان سمیت 8 مسلم ملکوں نے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، یو اے ای نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مشترکہ فیصلہ کیا، انڈونیشیا، اردن اور قطر بھی بورڈ میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں: چیف الیکشن کمشنر

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہیں، اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت، ریاست کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں۔ واضح رہے کہ بورڈ آف پیس غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، تعمیر نو کے لیے عبوری انتظامی نظام کے طور پر کام کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ کی تعمیر نو، فلسطینی عوام کی انسانی ضرورتیں پوری کرنے کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان امن بورڈ کے رکن کی حیثیت سے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شریک ہیں، ڈیووس میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی اور خوش گوار ملاقاتیں ہوئیں۔