حسینہ عالم کاتاج میکسیکوکی 25سالہ فاطمہ بوش کے سرپرسج گیا
فاطمہ بوش انسانیت دوست سرگرمیوں اور رضاکارانہ کاموں کے لیے جانی جاتی ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) تھائی لینڈ میں ہونےوالے مس یونیورسٹی مقابلے کے فائنل میں حسینۂ عالم کا تاج میکسیکو کی فاطمہ بوش کے سر سج گیا۔
میکسیکو کی فاطمہ بوش لائیو اسٹریمڈ میٹنگ کے دوران تھائی ایونٹ ڈائریکٹر کی سرِعام سرزنش کے بعد مداحوں کی پسندیدہ امیدوار کے طور پر ابھری تھیں،اس واقعہ کے بعد مقابلہ حسن میں شریک متعدد حسیناؤں نے احتجاجاً واک آؤٹ کردیاتھا۔
میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش انسانیت دوست سرگرمیوں اور رضاکارانہ کاموں کے لیے جانی جاتی ہیں، ان کو بنکاک میں گزشتہ سال کی فاتح ڈنمارک کی وکٹوریا کیئر تھیلوِگ نے تاج پہنایا۔
مس یونیورس کو عالمی سطح پر خوبصورتی کے مقابلوں کا سپر باؤل کہا جاتا ہے، جسے ہر سال لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں، ہر ملک کی نمائندہ مقامی نمایاں شخصیات کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے جو مس یونیورس آرگنائزیشن سے لائسنس حاصل کرتے ہیں۔
تھائی لینڈ کی پراوینار سنگھ رنر اپ رہیں جبکہ وینزویلا کی اسٹیفنی اباسالی، فلپائن کی آتھیسا مانیلو اور آئیوری کوسٹ کی اولیویا یاسے ٹاپ 5 میں شامل رہیں۔
اس سال 120 ممالک کی نمائندہ خواتین نے اس مقابلے میں حصہ لیا، ندین ایوب نے پہلی بار فلسطینی عوام کی نمائندگی کی اور وہ ٹاپ 30 سیمی فائنلسٹ تک پہنچنے کے بعد باہر ہو گئیں۔
فائنل کی میزبانی امریکی کامیڈین اسٹیو برائن نے کی جبکہ افتتاحی پرفارمنس تھائی گلوکار جیف سیٹر نے پیش کی۔
حتمی مقابلے میں شریک حسیناؤں سے ایسے سوالات پوچھے گئے کہ اگر انہیں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا موقع ملے تو وہ کس عالمی مسئلے پر بات کریں گی اور وہ مس یونیورس کا پلیٹ فارم نوجوان لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے کیسے استعمال کریں گی؟فاطمہ بوش نے اپنے جواب میں کہا کہ اپنی اصلیت کی طاقت پر یقین رکھیں، آپ کے خواب اہم ہیں، آپ کا دل اہم ہے، کبھی کسی کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو آپ کی قدر پر شک کرنے پر مجبور کرے۔