دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ پرواز شروع کرنے کی تیاریاں، سڈنی سے لندن تک 20 گھنٹے کا سفر

Jun 21, 2026 | 09:17:AM
دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ پرواز شروع کرنے کی تیاریاں، سڈنی سے لندن تک 20 گھنٹے کا سفر
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک ) آسٹریلوی قومی ایئرلائن قنطاس ائیرویز نے دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ کمرشل پروازیں شروع کرنے کے منصوبے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت سڈنی سے لندن تک تقریباً 20 گھنٹے کی براہِ راست پرواز اکتوبر 2027 میں شروع کی جائے گی۔

ایئرلائن کے مطابق خصوصی طور پر تیار کیے گئے   طیاروں میں مسافروں کے آرام کو یقینی بنانے کے لیے جدید ’’ویلنس زون‘‘، اضافی لیگ روم، خصوصی اوقات میں فراہم کیے جانے والے کھانے اور جسمانی گھڑی کے مطابق روشنی کا نظام نصب کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ٹائم زونز عبور کرنے والے طویل فضائی سفر مسافروں کے جسمانی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں، اسی لیے اس منصوبے میں نیند، غذائیت، روشنی اور جسمانی حرکت سے متعلق سائنسی تحقیق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:بارشوں کا نیا اسپیل۔۔۔!الرٹ جاری

ایئرلائن حکام کے مطابق خصوصی لائٹنگ اور آرام کے وقفوں کے ذریعے مسافروں میں جیٹ لیگ کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ طیارے میں ایک مخصوص ’’ویلنس زون‘‘ بھی قائم کیا جائے گا جہاں مسافر سفر کے دوران چہل قدمی اور آرام کر سکیں گے۔

قنطاس کا کہنا ہے کہ سڈنی سے لندن کے بعد سڈنی سے نیویارک تک نان اسٹاپ پروازیں بھی شروع کی جائیں گی۔ کمپنی کو امید ہے کہ یہ منفرد سفری تجربہ مسافروں کو متوجہ کرے گا اور روایتی ایک اسٹاپ پروازوں کے مقابلے میں زیادہ آمدنی حاصل ہوگی۔

اگرچہ کئی مسافروں نے وقت کی بچت کو مثبت قرار دیا ہے، تاہم بعض نے کرایوں میں متوقع اضافے اور طویل سفر کے دوران نشستوں کے آرام کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

ایئرلائن کے مطابق معیشت (اکانومی) کلاس میں نشستوں کے درمیان فاصلہ 33 انچ رکھا جائے گا جبکہ ’’اکانومی پلس‘‘ میں مزید جگہ فراہم کی جائے گی۔ طیارے کے اگلے حصے میں جدید فرسٹ کلاس سوئٹس بھی موجود ہوں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو عالمی فضائی سفر کے شعبے میں ایک نئی جہت کا آغاز ہو سکتا ہے۔