ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیس:وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت کی،دوران سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں رپورٹ پیش نہ کرنے پروفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
جسٹس سردار اسحاق نے کہا کہ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر کیس کی آئندہ سماعت ہو گی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کا روسٹر چیف جسٹس آفس ہینڈل کرتا ہے، حکومت نے سپریم کورٹ میں میرے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے، جج اگر چاہے بھی تو چھٹیوں میں کام نہیں کرسکتا، میری چھٹیاں آج سے شروع ہونی تھیں، میں نے فوزیہ صدیقی کیس دیگر کیسز کے ساتھ آج مقرر کیا تھا، مجھے جمعرات کو بتایا گیا کہ کازلسٹ جاری نہیں ہوگی جب تک کازلسٹ میں تبدیلی نہیں کی جاتی، میں نے پرسنل سیکرٹری سے کہا کہ کازلسٹ کے حوالے سے چیف جسٹس کو درخواست لکھو۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کو تیس سیکنڈ بھی درخواست پر دستخط کرنے کے لیے نہیں ملے، ماضی میں ججز کا روسٹر مخصوص کیسز کے فیصلوں کے لیے استعمال ہو چکاہے، فوزیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہیں، اپیل سپریم کورٹ میں مقرر ہے، جج چھٹی کے دن عدالت میں انصاف فراہم کرنے کے لیے بیٹھنا چاہتاہے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیئے کہ ایک بار پھر ایڈمنسٹریٹیو پاور کو جوڈیشل پاور کے لیے استعمال کیا گیا، میں انصاف کو شکست کا سامنا نہیں کرنے دوں گا، ہائیکورٹ کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جوڈیشل پاورز کا استعمال کروں گا، روسٹر تبدیل کرنے کے حوالے سے پرسنل سیکرٹری نے بتایا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی شہزادے کے انتقال پر اظہار تعزیت
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے پرسنل سیکرٹری کو کہا چیف جسٹس کو خط بھیج دو کیونکہ آج چند کیسز مقرر تھے، فوزیہ صدیقی کا کیس الگ نوعیت کاہے، میں نے کہا تھا رپورٹ نہ آئی تو توہین عدالت کی کارروائی شروع کروں گا۔
وکیل عمران شفیق نے کہا کہ اگرحکومت نے اسٹے لینا ہوتاتو ابھی بینچ بھی بن جاتا، ہمیں معلوم ہے کہ کیسے ہائیکورٹ چل رہی ہے، آپ کا آرڈر موجود ہے، کیس آپکی عدالت میں آج مقرر ہے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیئے کہ معلوم نہیں ابھی تک آپکا کیس کیسے سپریم کورٹ میں نہیں لگا، وکیل عمران شفیق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس نہیں لگےگاکیونکہ وہاں جسٹس منصور علی شاہ موجود ہیں، کیس تب لگےگاجب ججز کا روسٹر تبدیل ہوجائےگا۔