پڑھے لکھے نوجوان خواجہ سرا کیوں بن رہے ہیں؟

تحریر : وسیم شہزاد

Sep 20, 2022 | 18:08:PM
خواجہ سرا ,جنوبی پنجاب, ملتان , خواجہ سرا ڈانسر , ماس کمیونکیشن , شاہانہ عباس شانی ,24نیوز
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی گداگری پیشہ بن چکا ہے.  مگر پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہے جہاں گداگری کو معیوب سمجھا جاتا ہے.  حیرانگی اس بات پر ہے کے پاکستان میں خواتین کی نسبت مردوں کے لیے زیادہ روزگار کےمواقع ہیں. مگر پھر بھی خواجہ سرائوں کا روپ دھارے مردوں کی تعداد روز بروز پاکستان کے فٹ پاتھوں.  چوراہوں اور ٹریفک سگنلز پر بڑھتی جا رہی ہے.  جنکے بقول  ریاست سے روزگار نہ ملنے کے باعث یہ قدم اٹھانا پڑا ۔

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے والے محمد حسیب کا شمار ان مرد خواجہ سرائوں میں ہے جو روزگار کے حصول کے لیے شہر کی گنجان آباد جگہ عید گاہ کے ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگتے ہیں.  محمد حسیب  اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور حال ہی میں ماس کمیونکیشن میں ماسڑز کیا ہے.  مگر روزگار نہ ملنے کے باعث انہوں نے بناوٹی خواجہ سرائوں کا روپ دھار کر مانگ کر اپنا گزر بسر شروع کر رکھا ہے.  محمد حسیب کا کہنا ہے کے انکا باپ اسکی تعلیم کے اخراجات کا بوجھ برداشت نہ کرتے ہوئے 2 سال پہلے  انتقال کرگیا تھا  جو چوک کنارے غبارے  فروخت کر کے انکا پیٹ پالتا تھا ، اب صرف اسکی ماں ہی  اسکا واحد سہارا ہے جسکا پیٹ پالنے اور اپنی بھوک بجھانے کا یہ بھکاری پن ساتھ دے رہا ہے۔

ضرور پڑھیں : ٹرانس جینڈر ایکٹ ،کوئی آنکھیں بند کرلے تو وہ نابینا نہیں بن جائے گا،قائم مقام چیف جسٹس

صرف محمد حسیب ہی نہیں بلکے میڈم ماہی خان بھی اسی مشکل کا سامنا کر رہی ہی۔ جو پیشے کے اعتبار سے ایک خواجہ سرا ڈانسر ہیں مگر وہ ایک مرد ہیں ، جنکا اصل نام جمیل احمد ہے ، جن کا کہنا ہے کے وہ ایمرسن کالج ملتان سے حالیہ گریجوائیٹ ہیں  اور جاب نہ ملنے کے سلسلے میں اپنے گھر سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں ، ماہی خان کا تعلق خانیوال سے ہے ، مگر وہ ملتان میں اپنے گھر والوں کو یہی بتاتے ہیں کے یہاں آن لائن کام کرتے ہیں مگر وہ یہاں خواجہ سرائوں کا روپ دھارے ڈانسر ہیں ، کہتے ہیں کہ   میک اپ انکی اصل پہچان کو ختم کر دیتا ہے، اس لیے انکے بیشتر جاننے والے بھی انہیں پہچان نہین پاتے ۔ 

محمد حسیب اور ماہی خان سے پوچھے گئے سوال میں کہ مرد بن کر بھی تو بھیک مانگی جا سکتی ہے  کے جواب میں ان کا  کہنا تھا کے خواتین اور مردوں کے ساتھ شہریوں کی کوئی خاص ہمدردی نظر نہیں آتی.  خواجہ سرا ایک ایسا روپ  دھرتے ہیں جس میں 4 سے 5 گھنٹے ٹریفک سگنل  پر گزار کر اچھی رقم حاصل کی جا سکتی ہے.  وہ اوسط 1 ہزار روپے سے زائد اسے پیشے سے وابستہ ہونے کے باعث کماتے ہیں۔ جبکہ  ماہی خان نے بھی اس بات کی تائید کی ۔

ٹرانسجینڈر ایمپاورمنٹ ایسوسی ایشن کی صدر شاہانہ عباس شانی ایک خواجہ سرا ہے جنکا کہنا ہے کے وہ جنوبی پنجاب میں خواجہ سرائوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں . خواجہ سرائوں کے آئی ڈی کارڈ.  وظائف . صحت کارڈ.  اور ایڈز پر بیشتر پروگرامز کر چکی ہیں.  مگر انکا ماننا ہے کے خواجہ سرائوں کا روپ دھار کر مکمل مردوں کا اس فیلڈ میں آنا اور یوں سر عام بھیک مانگنا انکی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے ، جس کے لیے وہ کئی بار آواز بلند کر چکی ہیں ، کیو ںکہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ  اس آسان اور عام فہم طریقہ سے کمانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے مرد خواجہ سراوًں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

 

تحریک تحٖفظ خواجہ سرا کی صدر حاجی یاسمین کا کہنا ہے کے معاشرے میں خواجہ سرائوں کا روپ دھارے بڑھتے ہوئے مردوں کے باعث خواجہ سرائوں کی اپنی ساخت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کیونکہ خواجہ سرائوں نے مانگنے کے مختلف انداز مرتب کر رکھے ہیں جس میں خوشیوں اور بچوں کی پیدائش ، شادی یا دیگر تقریبات میں دہائیوں  کی صورت میں شہریوں سے انکی مرضی کے مطابق رقم لی جاتی ہے۔ بھیک آخری حل ہے جب کہیں چاہ نہ مل رہا ہو، مگر خواجہ سراوں کے روپ میں بہروپیے مرد اس بات کا خیال نہیں رکھتے بہت سے ایسے کیس ریکارڈ ہوئے جس میں یے مرد 2 نمبر کاموں میں ملوث دکھائی دیے اور پکڑے جانے سے خواجہ سراوں کی ساخت کو نقصان پہنچا ۔

 
ملتان پولیس کے ترجمان کے مطابق جنوری سال 2021 سے جنوری سال 2022 تک خواجہ سرائوں کا روپ دھارکر مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 132 افراد رپورٹ ہوئے ۔ جن میں چوری ، اورلوٹ مار ، موبائل چھیننے  کے 57 مقدمات درج ہوئے ، جن کی باقاعدہ ایف آئی آر درج ہوئی ، پولیس کے مطابق گزشتہ سال اس شرح میں آدھی کمی تھی ، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے ، خدشہ ہے کے آنے والے دنوں میں یہ تعداد جتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے معاشرے میں جہاں گداگروں کا اضافہ ہو گا ، وہی معاشرے میں پنپنے والے اس ناسور میں اضافہ ہو جائے گا ،۔

 یہ بھی پڑھیں : مبارک ہو! مسٹر ایکس اور مسٹر وائے مل گئے

خواجہ سرائوں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر کوئی ایسا میکنیزم ہونا چاہئیے  جس کے مطابق معاشرے مٰیں خواجہ سرائوں کا روپ دھارے بڑھتے ہوئے اس ناسور کو کنترول کیا جائے تاکے مردوں کے ساتھ ساتھ  خواجہ سراوں کو بھی حقوق متاثر نہ ہوں، چوکوں ، چوراہوں پر کھڑے مرد خواجہ سراوں کا خاتمہ ہو سکے تاکے پہلے ہی معاشرے میں بدنامی کا شکار خواجہ سرا مزید بدنام ہونے سے بچ سکیں۔