ڈبے پر پھلوں کی تصویریں، اندر شراب؛ پڑوسی ملک میں شراب فروشی کا نیا ڈھنگ سپریم کورٹ میں چیلنج
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) پڑوسی ملک میں ٹیٹرا پیک میں جوس کی طرح شراب بیچی جانے لگی، شراب کے نشہ سے عاجز شہریوں کی تنظیم ٹیٹرا پیک میں شراب فروشی رکوانے کے لئے سپریم کورٹ پہنچ گئی۔
ٹیٹرا پیک ڈبے پر پھلوں کی تصویریں سجا کر اندر شراب بھر کر فروخت کرنے پر بھارت کی سپریم کورٹ برہم ہو گئی۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔
شراب کے مخالف شہریوں کی تنظیم ’کمیونٹی اگینسٹ ڈرنکن ڈرائیونگ‘عرضی میں کہا گیا تھا کہ شراب کی پیکنگ کے متعلق قواعد میں وضاحت نہ ہونے کا فائدہ اتحا کر ٹیٹرا پیک میں شراب بیچنے والے شراب کے صحت س کی دشمن ہونے کے متعلق تنبیہ شائع نہیں کر رہے اور عام لوگوں کو بہکانے کے لئے ٹیٹرا پیک پر پھلوں کی خوبصورت تصویریں بھی چھاپ رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ڈبے کے اندر کوئی صحت بخش جوس ہے۔
ٹیٹرا پیک میں شراب کی فروخت کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ’کمیونٹی اگینسٹ ڈرنکن ڈرائیونگ‘ نامی تنظیم کی پیٹیشن میں کہا گیا تھا کہ شراب کی بوتل بندی سے متعلق ضوابط میں ابہام سے فائدہ اٹھا کر ٹیٹرا پیک پر صحت سے متعلق انتباہ نہیں چھاپا جا رہا اور پیکٹ پر پھلوں کی تصاویر لگا کر اسے جوس کی طرح ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی سے پہلے کیریئر؛کنگنارناوت نے خواتین کواہم مشورہ دیدیا
تنظیم نے اس طریقے سے ٹیٹرا پیک میں بھر کر فروخت کی جانے والی شراب پر پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔ چند روز قبل اسی نوعیت کی ایک اور مفاد عامہ کی پیٹیشن دائر کی گئی تھی، جس میں اتر پردیش میں ٹیٹرا پیک میں فروخت ہونے والی دیسی شراب پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس پیٹیشن کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس میں اتر پردیش حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت نئی ایکسائز پالیسی کے تحت دیسی شراب کی کھلی فروخت روکنے اور فروخت کے لئے اسے ٹیٹرا پیک میں پیک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملازمین کیلئے عید کی چھٹیوں اور اضافی تنخواہ کا اعلان
16 اپریل کو یہ عرضی چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے پیش ہوئی تھی، جس پر چیف جسٹس نے عرضی گزار سے کہا تھا کہ وہ براہ راست عدالت سے رجوع کرنے کے بجائے اپنی شکایت کے لیے ریاستی حکام سے رابطہ کرے۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ ٹیٹرا پیک میں فروخت ہونے والی شراب آسانی سے تعلیمی اداروں تک پہنچ رہی ہے، جس کے باعث جرائم اور شراب کے غلط استعمال کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اتر پردیش حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے دیسی شراب بوتلوں میں فروخت کی جاتی تھی، لیکن نئی ایکسائز پالیسی کے تحت اسے ٹیٹرا پیک میں فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حفاظتی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور ملاوٹ کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں جعلی سموں سے بینک فراڈ کرنے والا گروہ بے نقاب، ایک بینکر سمیت 3 ملزمان گرفتار