شہباز شریف کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات طے ہونے میں کوئی صداقت نہیں ؛عطا تارڑ
ہمارا معاملہ فوج کیساتھ نہیں ان شخصیات کیساتھ ہے جواس نظام پر قابض ہیں،سلمان اکرم راجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وزیراعظم شہبازشریف کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات طےہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ شہباز شریف کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات طے ہونے کی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
24نیوزکے پروگرام نسیم زہرا @پاکستان میں گفتگو کرتے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف انفرادی حیثیت میں نہیں دیئے جاتے بلکہ ایک مملکت دوسری مملکت کو دیتی ہے ، پی ٹی آئی نے 9مئی کو حملے کر کے ، آئی ایم ایف کو لیٹر لکھ کر مزاحمت کر لی ہے، پی ٹی آئی اب بند گلی میں داخل ہو چکی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت ، انتظامیہ ہونے کے باوجود پشاور اورکوہاٹ میں پی ٹی آئی کا ناکام جلسہ تھا،ان کاکہناتھا کہ پی ٹی آئی اگر قومی سلامتی کو نقصان پہنچائے گی تو کوئی بات چیت نہیں ہو گی ، جب تک ملاقات کے بعد خلاف ورزی ہوتی رہے گی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے دفاتر پاکستان میں نہیں کھولتے تو انہیں بند کرنے کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہو رہی۔حکومت تحریک انصاف کو کسی جلسہ جلوس کی توڑ پھوڑ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
پروگرام میں گفتگو ہوئےکرتےہوئے سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے کہا کہ توشہ خانہ 2 کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے وکیل موجود نہیں تھے، توشہ خانہ 2 کیس کی بھی اپیل ہم دائر کریں گے مگر ہم نے القادر ٹرسٹ کیس میں بھی اپیل دائر کی جس کو 1 سال سے نہیں سنا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ میں ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹوں گا، میں آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں مجھے شہادت قبول ہے ، ہمارا معاملہ فوج کیساتھ نہیں ان شخصیات کیساتھ ہے جواس نطام پر قابض ہیں ۔علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں اگر انکا بھائی انہیں کوئی بات کرتا ہے اور وہ بتا دیتی ہیں تو اس بات چیت پر پارٹی کا کنٹرول نہیں ہو سکتا۔
ان کاکہناتھا کہ محمود مولوی، عمران اسماعیل اور فیصل چودھری پارٹی کا حصہ نہیں ہیں لیکن اگر ان کی کوششوں سے پاکستان کے جمہوری عمل کو فائدہ ہوتا ہے تو وہ کوشش کریں۔ شاہ محمود قریشی اگر رہا ہو کر باہر آتے ہیں کوئی لائحہ عمل لاتے ہیں تو اسے دیکھیں گے لیکن عمران خان کے حکم کے مطابق ہو گا انکے حکم کے بغیر کوئی پارٹی کو کسی سمت میں نہیں لے کر جا سکتا ، بات چیت بھی ہو سکتی ہے اور سٹریٹ موومنٹ بھی ہو سکتی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاملات طے ہوں کیونکہ پاکستان کی قوم بھی اتنی ہی باشعور ہے جتنی بنگلہ دیشی عوام۔