زبیدہ خانم:سدا بہارآوازکی مالک گلوکارہ کوبچھڑے12 برس بیت گئے

 کم وبیش ڈیڑھ سو اُردو اور پنجابی فلموں کیلئے244گیت گائے ، بیشتر سُپرہٹ ہوئے

Oct 19, 2025 | 12:30:PM
 زبیدہ خانم:سدا بہارآوازکی مالک گلوکارہ کوبچھڑے12 برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)پاکستان فلم انڈسٹری کو متعدد یادگاراور شاہکارگیت دینے والی معروف گلوکارہ زبیدہ خانم کو مداحوں سے بچھڑے12برس بیت گئے مگر ان کے گائے ہوئے یادگار نغمے آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
1935ء کو متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر میں پیدا ہونے والی زبیدہ خانم قیامِ پاکستان کے بعد خاندان کے ہمرہ لاہور آبسیں اورفلمی سفرکاآغاز 1951ء میں ایک فلم”بِلو“سے کیا لیکن انہیں شُہرت فلم”بابو“سے ملی۔
زبیدہ خانم نے اُردو اور پنجابی فلموں میں آواز کا جادو جگا کر یکساں مقبولیت حاصل کی،اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے کم وبیش ڈیڑھ سو اُردو اور پنجابی فلموں کے لیے 244گیت گائے جن میں سے بیشتر سُپرہٹ ہوئے۔
انہوں نے بطوراداکارہ بھی اپنی صلاحیتوں کالوہامنوایالیکن گلوکاری میں اپنالوہامنوایا، انہیں ملکہ ترنم نورجہاں کے بعد پچاس کی دہائی کی سب سے کامیاب گلوکارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
زبیدہ خانم کو دورانِ تعلیم ان کے ایک استاد نے ان کی گلوکاری سے متاثر ہو کر ریڈیو پاکستان میں متعارف کروایا جہاں سے ان کے فنّی سفر کا آغاز ہوا،1951 میں ان کاپاکستان کی فلمی دنیا سے اس وقت تعلق قائم ہوا جب انہوں نے فلم ”بلو“ میں اداکاری کی۔
کیریئر کے ابتدائی برسوں میں وہ اداکاری بھی کرتی رہیں،اس دوران مورنی اور پاٹے خان جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے،انہیں اصل شناخت 1953ء میں اس وقت ملی جب وہ بطور پلے بیک سنگر سامنے آئیں اورانہوں نے اس سال ریلیز ہونے والی فلم”شہری بابو“کے لیے جوگیت گائے وہ  بہت مقبول ہوئے۔
کہاجاتاہے یکہ زبیدہ خانم کے اہل خانہ موسیقی کو بطور کیریئربنانے پر ان سے ناخوش تھے تاہم انہیں ہمیشہ سے گائیکی کا شوق تھا اورسٹوڈیو جاکرانہیں بہت خوشی محسوس ہوتی تھی،اپنے کیریئر کے عروج پر ہی انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت کے نامور کیمرہ مین ریاض بخاری سے شادی کرکے موسیقی کی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا،انہوں نے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا،ان کاجس روز انتقال ہوااس روز ان کے شوہر ریاض بخاری کی برسی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اداکارہ میرا کی والدہ شفقت زہراہ شدید علیل،دعائے صحت کی اپیل
زبیدہ خانم کااگرچہ موسیقی کے کسی بڑے روایتی گھرانے سے تعلق نہیں تھااس کے باوجود ان کی دلکش آواز اور خوش اسلوب گائیکی نے چند سالوں میں ہی انہیں صفِ اوّل کی گلوکارہ بنا دیا، وہ اس دور میں انڈسٹری میں آئیں جب یہاں بڑے بڑے نام موجود تھے انہی دنوں مہدی حسن جیسے فنکار اپنے کیریئر کا آغاز کر رہے تھے،زبیدہ خانم کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ملکہ ترنم نورجہاں کی موجودگی میں اپنا لوہا منوایا،وہ شاید واحد گلوکارہ تھیں جس کے گائے ہوئے بیشتر نغمے سُپرہٹ ہوئے۔
ایک اندازے کے مطابق زبیدہ خانم نے147 فلموں کے لیے 244 نغمے گائے، اُردو اور پنجابی زبان میں گائے ہوئے ان کے بہت سے گیت آج بھی بہت مقبول ہیں جن میں آئے موسم رنگیلے سُہانے،میری چنّی دیاں ریشمی تنداں،سیو نی میرا دل دھڑکے،دِلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے، کیا ہوا دل پہ ستم،دوپٹہ بے ایمان ہوگیا،اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے،ریشم دا لاچا لک وے ، مرا دل چنا کچ دا کھڈونا،گوری گوری چاننی دی ٹھنڈی اورچھڈ جانویں ناں چنان بانہہ پھڑکے جیسے ان کے بہت سے گانے آج بھی اسی طرح مقبول ہیں۔
زبیدہ بیگم نے شادی کے بعد فلمی گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی لیکن وہ میلاد اور درود و سلام کی محافل میں باقاعدگی سے شریک ہوتی رہیں۔وہ 19اکتوبر2013ء کو78 برس کی عمر میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئی تھیں۔