بھارت کا کھرب پتی انیل امبانی کھربوں روپے فراڈ کیس کے شکنجے میں آگیا

Mar 19, 2026 | 20:14:PM
 بھارت کا کھرب پتی انیل امبانی کھربوں روپے فراڈ کیس کے شکنجے میں آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کے سب سے دولتمند شخص کو  کھربوں روپے کے فراڈ کیس میں تحقیقات کے لئے  سی بی آئی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ 2929 ارب (بھارتی) روپے کی کرپشن کے مقدمہ کی تحقیقات میں اہم شواہد ان کے خلاف آئے ہیں۔

اب 2,929 کروڑ روپے کے قرض فراڈ کیس میں سی بی آئی انیل امبانی کو سامنے بٹھا کر سوال جواب کرے گی۔ اس تفتیش کے نتیجے میں انیل امبانی کی گرفتاری بھی ہو سکتی ہے۔انیل امبانی 19–20 مارچ کو سی بی آئی کی تحقیقات کے لئے ایجنسی کے اہلکاروں کے سامنے پیش ہوں گے
انیل ڈی. امبانی کے ترجمان نے بھارتی میڈیا کو بتایاکہ  انیل امبانی دہلی میں ایجنسی کے سامنے 19 اور 20 مارچ کو پیش ہوں گے۔ یہ پیشی اس ایف آئی آر کے سلسلے میں ہے جو  سٹیٹ بینک آف انڈیا کی شکایت پر ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ (آر کام) کے خلاف درج کی گئی تھی۔ کیس انیل امبانی اور دیگر کے خلاف درج ہے۔
  2,929 کروڑ روپے کے قرض فراڈ کیس میں انیل امبانی 19–20 مارچ کو سی بی آئی کی تحقیقات میں شامل ہوں گے

انیل امبانی کے ترجمان نے کہاکہ "یہ پیشی امبانی کے اس عزم کا حصہ ہے کہ وہ تمام ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔”

بھارتی میڈیا مین  سامنے آنے  والی اطلاعات کے مطابق، سی بی آئی نے 21 اگست 2025 کو ایف آئی آر درج کی تھی، جو ایس بی آئی ممبئی کی شکایت پر مبنی تھی۔ یہ شکایت ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ، اس کے ڈائریکٹر انیل امبانی، نامعلوم سرکاری اہلکاروں اور دیگر کے خلاف تھی۔ الزام ہے کہ انہوں نے ایس بی آئی کو دھوکہ دے کر 2,929.05 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔

 تحقیقات میں سامنے آنے والےحقائق کی بنا پر انیل امبانی پر  الزام ہے کہ امبانی اور دیگر نے مبینہ طور پر مجرمانہ سازش کی تھی۔ انہوں نے  حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا اور ایس بی آئی سے آر کام کے حق میں کریڈٹ کی سہولیات حاصل کیں۔ بعد میں یہ قرض مبینہ طور پر غلط استعمال کیا گیا اور دوسرے کھاتوں میں منتقل کیا گیا۔

انیل امبانی پر سنگین الزامات

سی بی آئی کے ایک افسر نے کہاکہ "الزامات میں قرض کے فنڈز کی ممکنہ منتقلی، انٹر کمپنی لین دین، سیلز انوائس فنانسنگ کا غلط استعمال، ریلائنس انفراٹیل لمیٹڈ کے ذریعے آر کام کے بلوں کی ڈسکاؤنٹنگ، انٹر کارپوریٹ ڈپازٹس کے ذریعے فنڈز کی نقل و حرکت، نیٹیزن انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (ریلائنس اے ڈی اے گروپ کی کمپنی) کو دیئے گئے کیپیٹل ایڈوانسز کا لکھا جانا اور فرضی قرض داروں کی تخلیق/ختم کرنا شامل ہیں۔ ان اعمال کے ذریعے ملزمان پر مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت کے جرائم کا الزام ہے۔”


سی بی آئی نے 22 اگست 2025 کو ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں درخواست دائر کر کے انیل امبانی اور دیگر کے خلاف سرچ وارنٹ حاصل کیا تھا۔

انیل امبانی کی پاکستان میں شہرت کی وجہ

پاکستان میں بیشتر لوگ انیل امبانی کو اس کے بیٹے کی شاہانہ شادی کی کئی ماہ جاری رہنے والی رنگ برنگی تقریبات کی وجہ سے جانتے ہیں۔ ان تقریبات مین بھارت کے ساتھ دنیا بھر کے اداکاروں، گلوکاروں، کھلاڑیوں کو بلایا گیا تھا، اور ان سلیبریٹیز کو قیمتی تحائف دیئے گئے تھے۔ ان بہت مشہور سلیبریٹیز کے کندھوں پر بیٹھ کر انیل امبانی کے خود اپنی اور اپنے  کاروباری گھرانے کی بھی خوب تشہیر کی۔ اب پتہ چل رہا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سلیبریتیز نے جو قیمتی تحفے حاصل کئے وہ سب تو بینک کے قرض کے پیسے سے خریدے گئے تھے، بینک کا قرض بھی وہ جسے مس اپروپریئٹ کیا گیا اور غبن کیا گیا۔